خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 242

۲۴۲ ہر ایک فرد شہید بننے کی کوشش نہیں کرے گا۔اُس وقت تک اصل مدعا حاصل نہیں ہو سکے گا۔جو مقصد تمہارے پیش نظر ہے۔وہ بہت بڑا ہے۔لاکھوں اور کروڑوں قربانیوں کی ضرورت ہے۔ایک انسان کی بقا کے لیے ہزاروں قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔انسان کے وجود کے ذرے ذرے کے لیے قربانی ہوتی ہے۔پس جب ایک انسان کے لیے اتنی قربانیوں کی ضرورت ہے۔تو سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی کے لیے کسقدر قربانیوں کی ضرورت ہو گی۔تم نے ساری دنیا کومسلمان کرنا ہے اور ساری دنیامیں توحید کو پھیلانا ہے۔اگر ایک شخص قربانی کرے تو کیا یہ بات حاصل ہوسکتی ہے۔اس زمانہ میں تلوار کی قربانی کی ضرورت نہیں۔مگر جہاں تلوار کی قربانی کی ضرورت ہو ، اس سے بھی انکار نہیں ہونا چاہیئے۔جیسا کہ کابل میں ہوا۔ہاں جن ممالک میں ہم پر تلوار نہیں چلائی جاتی وہاں ہمیں بھی تلوار کی شہادت کی ضرورت نہیں وہاں اور قسم کی شہادت ہے۔تلوار کی قربانی تو ایک لحظہ میں ہو جاتی ہے، مگر جس قربانی کی ہمیں ضرورت ہے وہ ہر لحظہ میں کئی بار ہوتی ہے۔حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ امام حسین کی شہادت تو ایک شمارت ہے۔مگر میں نے تو بہت سی شہادتیں دکھی ہیں۔اسی طرح حضرت صاحب فرماتے ہیں۔صدحسین است در گریبانم کہ مجھ پر ہر وقت وہی کچھ گزرتا ہے۔جو امام حسین پر ایک وقت گذرا۔تلوار سے ایک دفعہ فیصلہ ہو جاتا ہے۔اور ایک جوشیلا فوری جوش میں گردن کٹوا سکتا ہے، مگر جو آہستہ آہستہ قربانیاں طلب کی جاتی ہیں۔ان کو ہر ایک شخص برداشت نہیں کر سکتا۔مثلاً کسی کو اگر کہا جائے کہ اس دن بھوکے کھڑے رہو۔تو اس کے لیے مشکل ہے۔اور اس میں صبر اور ہمت کی اس سے بہت زیادہ ضرورت ہے جتنی تلوار کے نیچے سر رکھدینے میں ہے تو اس وقت تلوار کی قربانی کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسی قربانی کی ضرورت ہے جس میں انسان کی ہر چیز قربان ہو۔ایک ایک لمحہ کا فکر ایسا ہوتا ہے کہ جان کو گھلا ڈالنا ہے۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الشعراء : اسم یعنی کیا تو محض اس غم اور فکر یں کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے ، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا۔عربی زبان میں گردن کی پچھلی رگوں تک کاٹنے کو بمع کہتے ہیں۔گویا کہ چھری کا اس طرح چلنا کہ گردن کی پچھلی رگیں آہستہ آہستہ کٹ جائیں۔یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا جب تک خاص ایمان نہ ہو۔پس اس وقت ضرورت ہے کہ اسلام کے لیے اور سلسلہ احمدیہ کے لیے ہر ایک قربانی جس کی ضرورت ہو ئی جاتے اور جب تک تم میں سے ہر ایک قربانی نہیں کرے گا۔اُن ترقیبوں کے منہ نہیں