خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 238

ہوگیا۔اگر ایسا نہ ہو تو کوئی حکومت حکومت نہیں کہلا سکتی۔اسی طرح دوسرے معاملات ہیں علم کیا ہے یہ بھی قربانیوں سے حاصل ہوتا ہے کسی چیز کے جاننے کے لیے مال کی اوقات کی۔جذبات کی۔دوست و اشنا کی محبت کی۔آرام کی۔جب قربانیاں کی جاتی ہیں۔تب علم حاصل ہوتا ہے۔اور یہ تقسیم کی قربانی اپنے اندر اور بہت سی قربانیاں رکھتی ہے۔یوں لوگ صرف مال کی قربانی کمدینے سے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتے۔جب تک اس کی تشریح نہ کی جاتے مال نام ہے۔ان اشرفیوں اور ان روپیوں کا جو اشرفیوں میں ہیں۔اور ان اٹھتیوں۔چوٹیوں دونوں پیسوں اور ان کے اجزاء کا جو ان میں شامل ہیں پس ان تمام کے قربان کرنے کا نام مالی قربانی ہوتا ہے۔چونکہ لوگ اس تشریح کو ذہن میں نہیں رکھتے۔اس لیے اس کی عظمت کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ایک زمیندار اپنے بچے کے پرائمری تک پڑھانے کے لیے چار سو یا پانچسور و پیہ خرچ کرتا ہے اور آہستہ آہستہ خرچ کرتا ہے۔اس لیے وہ خرچ اس کی نظر میں کچھ نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی شخص کسی زمیندار کو یہ کہے کہ ہم تمہارے لڑکے کو پرائمری پاس کرا دینگے۔تم نہیں چار پانسور و پیہ دیدو۔تو وہ ہی کے گا کہ اتنے روپیہ کی میں زمین کیوں نہ خرید لوں۔تو گو وہ خرچ تو سینکڑے ہی کرتا ہے مگر چونکہ وہ پیسہ پیسہ کر کے خرچ کرتا ہے اس لیے اس کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔پھر بہت بڑی قربانی آرام کی قربانی ہوتی ہے۔اس کی تفصیل جب تک معلوم نہ ہو، اس وقت تک اس کی اہمیت نہیں معلوم ہوسکتی۔مثلاً آجکل روزے ہیں۔طالب علم کا صبح آرام کرنے کو دل چاہتا ہے، مگر خیال یہ ہے کہ مدرسہ میں جانا ہے۔اس لیے وہ مدرسہ کے لیے اپنے آرام کو قربان کرتا ہے۔اسی طرح اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو جب پڑھنے کے لیے چھوڑتا ہے تب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے وقت کی کتنی قربانی کی ہے۔پھر جو وقت کی قربانی ہوتی ہے۔اس کو کون جان سکتا ہے کہ وہ کتنی بڑی ہوتی ہے۔اس کی تفصیلات کو ذہن میں لاؤ۔وقت کا خرچ ہونا اور چیز ہے اور خرچ کرنا اور۔ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ایک ایسا شخص جو بیکار پڑا رہتا ہے۔اس کا وقت خرچ ہو رہا ہوتا ہے۔وہ خود خرچ نہیں کر رہا ہوتا ، لیکن ایک ایسا شخص جو کسی خاص کام میں وقت لگاتا ہے۔اس کا وقت خرچ نہیں توتا کہ وہ خرچ کرتا ہے توبہت لوگ ایسے ہیں جنکا قت خرچ ہوتا ہے اوربہت کر یں جوقت کو خرچ کرتے ہیں، ہر ایک شخص کے پاس مال ہوتا ہے اور ہر ایک سے خرچ ہوتا ہے، لیکن خرچ کرنا بہت کم لوگ جانتے ہیں۔اور یہ ایک خاص علم ہے جس کا نام علم الاقتصاد ہے۔جس طرح لوگ انگریزی زبان اور دیگر علوم میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔اسی طرح اس علم میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل ہوتی ہے۔یہ بہت