خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 235

۲۳۵ وہ ہماری جماعت کہ یک آدمی تھے وہ اب فوت ہو گئے ہیں۔انھوں نے کوشش کی کہ و اسٹیشن ماسٹر کی حیثیت میں بٹالہ سٹیشن پر بدل دیئے جائیں۔اُنھوں نے اپنے محکمہ کے افسر کے پاس درخواست کی اور گورنمنٹ کے متعلق جو احمدی جماعت کے خیالات ہیں۔وہ بتاتے اور کچھ رسالے وغیرہ بھی دیتے۔اس افسر نے انھیں کہا کہ ہم تم پر بہت خوش ہیں اور تمہاری جماعت کو بہت اچھا سمجھتے ہیں۔اس لیے تم سے رعائت کرتے ہیں کہ تم ہمیں تین سو روپیہ ماہوار دیدیا کرو۔ہم تمہیں بٹالہ کا سٹیشن ماسٹر بنا دیں گے۔اُنھوں نے کہا کہ میری تنخواہ تو ساٹھ روپیہ ہے۔میں تین سو روپیہ ماہوار کیسے دے سکتا ہوں۔اُس نے کہا نہیں تمہیں بہت آمدنی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا ئیں توایسی آمدنی لیتا نہیں۔کیونکہ یہی حکم ہے۔اس نے جواب دیا کہ افسوس ہم پھر مجبور ہیں۔آپ کی بدلی نہیں ہو سکتی۔اسی طرح ایک خانساماں تھا۔وہ ہمیشہ گھی کی بجائے چربی ڈالا کرتا تھا۔خدا نے اسکو ہدایت دی اور وہ احمدی ہو گیا۔اس کے بعد اس نے چربی کی بجائے گی کہ اسی کی قیمت وصول کی جاتی تھی ڈالنا شروع کیا جس پر تمام لوگوں میں شور مچ گیا کہ ہت برا کھانا ہوتا ہے۔اس نے بہت یقین دلایا کہ یہ گھی خالص ہے۔مگر انھوں نے باور نہ کیا ، اور افسران بالا کے پاس اس کی شکایت کی۔افسر آتے اور اس سے باز پرس ہوتی اُس نے کہا پہلے تو میں واقعی چربی کھلاتا تھا لیکن اب جب سے میں احمدی ہوا ہوں، چربی کا استعمال ترک کر دیا۔اور گھی استعمال کرتا ہوں۔افسر کو کہا کہ میری بات کا یقین آپ کو اس طرح آسکتا ہے۔کہ میں آپ کے سامنے دونوں سالن پکاتا ہوں۔چربی کا بھی اور گھی کا بھی۔چنانچہ پکاتے چربی کے کھانے کو کھانے والوں نے پسند کیا اور گھی کے کھانے کو نا پسند، اس پر افسر نے کہدیا کہ اب اگر تم چربی استعمال کرو تو اس میں تمہارا قصور نہیں۔تم یہی استعمال کیا کرو۔غرض عجیب معاملہ ہے۔لوگ ہمارے جذبات کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔وہ خیال ہی نہیں کر سکتے کہ آج بھی معاملات صفائی کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ہمیں حضرت مسیح موعود نے اس دنیا سے نکال که تیره سو برس پیچھے کے زمانہ میں پہنچا دیا ہے۔جو ہمیں موجودہ زمانہ کی نسبت زیادہ پیارا ہے کیونکہ اس میں زیادہ آرام اور زیاد قسمتی ہے۔اس زمانہ کے لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ سرکاری کونسل میں ایک مسلمان ممبر تھا۔جو اب مستعفی ہو گیا ہے۔ایک دفعہ کونسل میں یہ سوال پیش ہوا کہ مسلمان عورتہ کا ہندو مرد سے اور ہندو عورت کا مسلمان سے نکاح ہو جانا چاہیئے کسی نے کہا یہ تو قرآن کریم کے خلاف ہے۔اس نے کہا قرآن ایک تیرہ سو برس پہلے کی کتاب ہے وہ اس زمانہ کی ضروریات کو پورا