خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 222

ہرمیں بھی کامیابی نہیں ہوسکتی۔اور غلط طریقی پر چل کر کوئی مقصد حاصل نہ ہونے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ حاصل ہی نہیں ہوا کرتا۔یا اب حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔مثلاً کوئی شخص ایسا نہیں جس کے پاؤں میں آنکھیں ہوں یا کھوپڑی پر کان ہوں مگر اس سے یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ چونکہ پاؤں میں آنکھیں۔اور کھوپڑی پر کان نہیں۔اس لیے ان کی ضرورت ہی نہیں۔اور ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔کیونکہ جہاں جہاں یہ موزوں تھے وہیں لگا دیتے گئے۔اور ان سے کام لینے کے سامان پیدا کر دیتے گتے ہیں۔اس لیے یہ کہنا بالکل لغو ہے کہ آنکھیں پاؤں میں اور کان کھوپڑی پر لگائے جاتے۔دیکھنا یہ ہے کہ جس چیز کی ضرورت تھی۔اس کو پورا کیا گیا ہے یا نہیں یسو ہم دیکھتے ہیں کہ جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ تو ضرور پیدا کی ہیں۔پس اسی طرح چونکہ اتفاق و اتحاد انسانوں کے لیے ضروری بنایا گیا ہے۔اس لیے ناممکن ہے کہ اس کے حاصل کرنے کے ذرائع نہ رکھتے ہوں۔ضرور رکھتے ہیں۔مگر ان کے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جب اتفاق کی ضرورت بھی ہے اور اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشش بھی ہوتی ہے۔تو یہ حاصل کیوں نہیں ہوتا۔اس کا جواب میں ہے کہ ان سامانوں سے کام نہیں لیا جاتا۔جو اس کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔اگر ان سامانوں سے کام لیا جائے تو ممکن نہیں کہ اتفاق و اتحاد نہ ہو اس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ وہ کیا سامان ہیں ہو یا د رکھنا چاہیئے کہ مختلف مذاہب کے لیے مختلف ذرائع ہیں مگر اسلام میں اتفاق کا ذریعہ دین واحد پر جمع ہونا ہے۔اور لوگوں کے لیے اور ذرائع ہونگے۔مگر مسلمانوں کے لیے بجز اسلام کے اور کوئی نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاعْتَوسُوا الحبل اللهِ جَمِیعًا۔کہ اللہ کے رسے کو مضبوط پکڑ لو اور اختلاف نہ کرو۔دوسری قومیں ظاہری سامانوں سے اتفاق کر سکتی ہیں۔مگر اسلام میں اتفاق کا ذریعہ صرف ایک ہی ہے کہ حبل اللہ کو پکڑا جائے اور صل اللہ کیا ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔اسلام کیا ہے ؟ وہ جو انبیا۔احکام دیتے ہیں پس انبیاء بھی حبل اللہ ہیں۔رسول کریم حبل اللہ ہیں اور مسیح موعود حبل اللہ ہیں۔قرآن کریم حبل اللہ ہے انکو پکڑے بغیر اتفاق نہیں ہو سکتا۔پس اگر اتفاق ہو سکتا ہے۔تو اسی طرح کہ اسلام کو مضبوط پکڑا جائے۔اور اسلام محض نماز روزے کا نام نہیں۔بلکہ اسلام نام ہے اخلاق کے ان اصول کا جن پر چل کر اتفاق و آشتی پیدا ہوا د نا اتفاقی دُور ہو۔اسلام کوئی ٹونا ٹوٹکا نہیں کہ میں ادھر سلام کا نام لیا اور دھراتفاق واتحاد پیدا ہوگیا۔جیساکہ عوام جہلاء میں مشہور ہے کہ پیپل کے درخت کے گرد سات چکر کھتے دھاگے کے ساتھ لگاتے جائیں تو فلاں