خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 20

نہیں ہوتیں۔وہ خُدا کے انعام کی مستحق نہیں ہو سکتی۔بیشک ترقی کرنے کے اور بھی ذرائع ہیں، مگر وہ دنیا دی ہیں، لیکن خدا کی راہ میں ترقی وہی لوگ کر سکتے ہیں۔جو ایسے اعمال کریں جو خدا کے فضل کو جذب کرنے والے ہوتے ہیں۔ہمارے پاس دنیا وی سامان تو ہیں نہیں۔اس لیے جب تک ہم خُدا کا خاص فضل جذب کرنے والے اعمال نہ کریں۔اس وقت تک ترقی کس طرح کر سکتے ہیں۔پس اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہر جگہ کے لوگ آپس میں خاص طور پر اتحاد و اتفاق کر کے دکھلائیں بعض اوقات بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہو جاتی ہے۔نا اتفاقی اور تفرقہ کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔نمازیں الگ پڑھنی شروع کر دی جاتی ہیں۔معاملات میں قطع تعلق کر لیا جاتا ہے حالانکہ تفرقہ اور نا اتفاقی کی اگر وجہ کو دیکھا جائے تو بہت معمولی اور ردی ہوتی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ افراد کی لڑائیاں اور نا اتفاقیاں ہیں۔حالانکہ افراد سے جماعت بنتی ہے اور جب افراد میں لڑائی ہوئی تو جماعت میں ہی ہوتی۔تو میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک مقام پر وہ اتفاق اور اتحاد بھی پیدا نہیں ہوا جو خدا کے خاص فضل حاصل کرنے کا موجب ہوتا ہے۔اگر چہ ان لوگوں سے بہت زیادہ اتفاق اور اتحاد ہوتا ہے جن سے لوگ نکل کر ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔مگر اتنا کافی نہیں ہو سکتا۔اس سے بہت زیادہ کی ضرورت ہے اور ہمارے لیے یہ خوشی کی بات نہیں ہے۔کہ دوسروں سے زیادہ ہم میں اتفاق ہے ، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا جتنے اتفاق کی ہم کو ضرورت ہے۔وہ ہے یا نہیں۔اگر اتنا نہیں تو پھر اس فائدہ کے حاصل ہونے کا موجب نہیں ہو سکتا جسکی ہمیں ضرورت ہے پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیئے کہ اس اتحاد کے پیدا کرنے کیلئے خاص قربانی کرنا سیکھیں اور نا اتفاقی کے خیالات کو ترک کرنا اختیار کریں تا کہ خدا کے فضل حاصل ہوں۔اگر کسی وجہ سے جماعت کے اتحاد اور اتفاق میں فرق آنے کا خوف ہوتو چاہتے کہ اپنے ذاتی اغراض اور فوائد کو قربان کردی جاے کیونکہ جماعت کی تباہی لوگوں کی اپنی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مکان کے اندر کھڑا ہو کر اپنے سر پر ہاتھ رکھ لے اور چھت کو اسلئے گرانا شروع کر دے کہ میں تو بیچ جاؤنگا اور دوسرے ہلاک ہو جائنگے اگر کوئی ایسا کرے توہ نادان اور بیوقوف ہوگا کیونکہ اگر چھت گری تودہ خود بھی ہلاک ہو جائیگا یہی حال جمات میں فتنہ اور فساد پیدا کرنیکا ہوتا ہے کہ نسل پیدا کر نیوال خود بھی ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہماری جماعتے لوگوں کو یہ سمجھنے کی توفیق ہے کہ جماعت کی تباہی کی اپنی تباہی ہوگی اور وہ اس بات کیلئے تیار ہوجائیں کہ پنے ذاتی فوائد کو جماعت کے اغراض کے مقابلہ میں قربان کرنے میں ذرا پس و پیش نہ کریں۔خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں۔کیونکہ عدل وانصاف اور ان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ جماعت کے فوائد کے مقابلہ میں ذاتی فوائد کو قربان کردیں۔الفضل مر فروری شالة )