خطبات محمود (جلد 6) — Page 196
144 ایک فوقیت ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے نہ صرف دُعا کے ایسے گر بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے انسان کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اس میں دُعا پر خاص زور دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ اسلام نے ہر موقعہ کی دُعا کے لیے بہترین سے بہترین الفاظ انتخاب کر کے رکھ دیتے ہیں۔اور نہ صرف یہ کہ دن کے تمام حصوں کے متعلق دکھاتیں تلقین کی گئی ہیں۔اور نہ صرف یہ کہ اسلام اپنی دعا کے نتیجہ میں زندہ نشان کھانا ہے بلکہ ان تمام باتوں کے علاوہ اسلام میں دُعا کے بارے میں ایک اور خصوصیت ہے اور وہ یہ کہ اسلام کی بنیاد ہی دُعا پر ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نتیجہ اس دعا کا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی کہ اسے خدا ایک ایسے نبی کو پیدا کرنا جو ان ان خوبیوں والا ہو۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی دعا کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔پس اسلام اور دیگر مذاہب میں دُعا کے بارے میں ایک فرق ہے۔اگر چہ اور بھی اسلام اور دیگر مذاہب میں فرق ہیں۔مگر وہ ایسے ہیں کہ خاص خاص اوقات میں وہ باتیں اور نشانات دیگر مذاہب بھی رکھتے تھے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی بنیاد دُعا پر ہے اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ اسلام دُعا ہے۔اور دعا اسلام ہے۔دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔دعا اور اسلام جدا نہیں ہو سکتے۔اسلام کیا ہے۔اپنے آقا اپنے مولا اپنے خدا کی فرمانبرداری کرنا اور مسلمان وہ ہے جس کی نظر ہر وقت اپنے آقا کے احکام کی طرف ہو۔جو خدائی ارشاد ہو اس کو قبول کرے اور جب بندہ پکار سے تو ادھر سے اس کو جواب ملے۔مگر افسوس ہے کہ بہت لوگ اس کی حقیقت سے واقف نہیں۔عام طور پر رواج کے مطابق دعائیں کرتے ہیں، لیکن نہیں یقین کرتے کہ ان کا کچھ اثر بھی ہوتا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ کس غرض سے دُعا کرتے ہیں۔اور نہیں معلوم کرتے کہ کیوں ہاتھ اُٹھاتے ہیں۔نماز میں دُعائیں پڑھتے ہیں۔مگر غور نہیں کرتے کہ ان دعاؤں کا کیا مطلب اور مقصد ہے۔غرض جو چیز اسلام کی جان ہے اور جو چیز اسلام کی بنیاد ہے اور جو اسلام کے ساتھ ایسی پیوست ہے کہ جدا نہیں ہو سکتی۔اس سے مسلمان جدا ہو گئے۔اور اس سے ہی جدا نہیں ہوئے بلکہ اسلام سے جُدا ہو گئے۔کیونکہ جو اس سے جدا ہوتا ہے۔وہ اسلام سے جدا ہوتا ہے۔پیس لوگوں نے دُعا کو چھوڑ کر ل سورة البقرة : ١٣