خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 187

تک پہنچ سکیں۔یہ سچ ہے کہ خدا تک پہنچنے کے کئی رستہ ہیں۔کیونکہ خدا لامحدود ہے اور وہ چونکہ لامحدود ہے اس لیے اس کے پانے کے رستہ بھی غیر محدود ہی ہیں۔پھر اس کا عرفان بھی غیر محدود ہے۔اس لیے اس کے لیے کوشش بھی غیر محدود کی ہی ضرورت ہے۔ایک چھوٹی سی چیز کا نظر آسانی سے احاطہ کر لیتی ہے لیکن جو چیز بڑی ہو اس کا احاطہ نظر جھٹ پٹ نہیں کر سکے گی۔بلکہ اس کے لیے بڑی کوشش اور سعی کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً ایک وسیع سمندر ہے اس کے لیے نظر کوبہت زیادہ وسیع کرنا پڑیگا اوربڑی کوشش اور محنت کے بعد اس کا احاطہ ہو سکے گا پس جو چیز غیر محدود ہو اس کے حاصل کرنے کے لیے غیر محدود وقت اور غیر محدود کوشش کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت کی کوئی حد بندی نہیں ہے اس لیے اس کے لیے جسقدر کوشش کی ضرورت ہے۔وہ بھی ختم نہیں ہوتی۔اور جس قدر ذرائع اس کے حصول کے ہیں وہ سب قرآن کریم میں درج ہیں۔اس کے باہر کوئی نہیں ہے۔مگر افسوس کہ بہت ہیں۔جو دھر توجہ نہیں کرتے۔زید دیگر کے اقوال کی طرف توجہ کرتے ہیں مگر قرآن کی طرف توجہ نہیں کرتے۔میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔کہ آپ لوگ اپنی کوششوں کوقرآن کریم سمجھنے میں صرف کریں کبھی نہ سمجھو کہ تم نے قرآن کریم کو سمجھ لیا۔وہ لوگ جھوٹے ہیں۔غلط کہتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے قرآن کو پڑھ لیا اور اس کے معارف پر احاطہ کر لیا۔اب انھیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔یہ بالکل غلط ہے قرآن کو کوئی ایسانہیں پڑھ سکتا کہ پھر اسے پڑھنے کی ضرورت نہ رہے۔کیونکہ جتنا کوئی اس کو پڑھنا ہے۔اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔قرآن محدود نہیں ہے کہ اس کو کوئی پڑھ نے ہاں اس کے الفاظ محدود ہیں۔یہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے الفاظ کو پڑھ لیا۔مگر قرآن کو نہیں پڑھ لیا۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ اس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھ لیا، تو اس کے یہ معنی ہوتے کہ اس نے ان سے لیکر ولا الضالین تک کے حروف و الفاظ کو پڑھ لیا۔باقی رہا یہ کہ اس کے اندر جو علوم اور حکمتیں اور معارف ہیں وہ بھی اس نے ختم کر لیے۔یہ درست نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ان تمام علوم کو جو اس کے اندر ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ختم نہیں کر سکے۔مسیح موعود بھی ختم نہیں کر سکے اگر انھوں نے ختم کر لیا ہوتا تو کیا ضرورت تھی کہ ہر نماز میں یہ پڑھتے کہ اهدنا الصراط المستقیم وہ جوں جوں پڑھتے تھے اسی قدر اس کے معارف و مطالب اور وسیع ہوتے چلے جاتے تھے اگر ان پر اس کے علوم ختم ہو گئے تھے۔تو اس دعا کے پڑھنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ کھائی ہوئی روٹی کو دوبارہ کھایا جاتا۔اور نہ پتے ہوتے پانی کو دوبارہ پیا جاتا ہے۔ہر بار نئی روٹی کھائی اور نیا پانی پیا جاتا ہے۔اسی طرح قرآن جو روحانی غذا ہے۔یہ بھی ہر بار نیا ہوتا ہے۔اگر کوئی