خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 186

TAM صراط مستقیم کی ہدایت اور احتیاط کی ضرورت ہے لیکن ان کے لیے خود صراط مستقیم انسان نہیں تجویز کر سکتا۔دنیا میں اور علوم کے لیے کچھ کر سکتا ہے۔اور وہ بھی اس طرح کہ ایک کے لیے دوسرا ذریعہ بن جاتے اور دوسرا اسے کوئی مفید بات بتادے خود ان علوم میں بھی۔انسان اپنے لیے آپ طریق ایجاد نہیں کر سکتا۔ملا جوانسان عربی یا انگریزی پڑھنا چاہے وہ خود کہاں انگریزی کا کورس یا عربی کا نصاب تجویز کر سکتا ہے۔دوسرے جنہوں نے ان علوم کو پڑھا ہوا ہوتا ہے وہ کچھ بتا دیتے ہیں۔تو ان علوم میں ایک انسان دوسرے گے لیسے ذریعہ ہدایت ہو سکتا ہے، لیکن خدا کی رضا انسان ہ خود معلوم کر سکتا ہے اور نہ دوسرا انسان اس کے حاصل کرنے کا بطور خود طریق بتا سکتا ہے۔یہ تو خدا کی رضا ہے میں کہتا ہوں انسان انسان کی رضا خود نہیں معلوم کر سکتا جب تک وہ خود نہ بتائے۔بہت دفعہ جب بچہ روتا ہے تو ماں چپ کرانے کے لیے اسے پانی دیتی ہے۔اس پر چپ نہیں ہوتا تو دودھ‎ دیتی ہے اس کو بھی جھٹک دیتا ہے، تو کوئی اور چیز دیتی ہے۔مگر پھر بھی وہ خاموش نہیں ہوتا۔روتے روتے سو جاتا ہے۔یا ایسا ہوتا ہے کہ بیسیوں غلطیوں کے بعد کچھ پتہ لگتا ہے کہ فلاں وجہ سے روتا ہے۔پس جب اپنے ہم جنس کا عندیہ علوم کرنا آسان نہیں تو خدا تعالی کی رضا کا از خودمعلوم کر نیکی نہیں ہاں جب خدا تعالیٰ شادے کہ میرا یہ نشام۔اور یہ عندیہ ہے تو پتہ گھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنی رضا مندی کو بتا دیا ہے اور وہ قرآن کریم میں مسطور ہے اور جیسے ہر چیز کے حصول کے لیے صراط بتا مستقیم کی ضرورت ہے۔ویسے ہی خدا کی رضا کے لیے حصول کے لیے بھی ہے قرآن کریم کے ابتداء میں ہی انسان ہدایت طلب کرتا ہے اور کہتا ہے اھدنا الصراط المستقيم وه خدا سے سیدھے رستہ کی ہدایت چاہتا ہے۔جھٹ اس کو جواب ملتا ہے الم ذالك الكتاب کہ یہ رستہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے فضل سے اپنی رضامندی حاصل کرنیکا طریق بتا دیا ہے۔اب خود اس کے لیے کوئی نصاب تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔اور نہ ضرورت ہے کہ لوگوں سے معلوم کریں۔ہاں ضرورت ہے کہ ان اشارات اور رموز کو جو اس رستہ میں موجود ہیں۔دوسرے واقعوں سے سمجھ ہیں۔اب رستہ کے متعلق یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ کس رستہ پر چلیں۔اب تو اس رستہ کے حالات دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔قرآن کریم میں وہ ذریعہ موجود ہے جس سے ہم اللہ تعالیٰ کو پاسکتے ہیں اور اس کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔اور یہ وہ چیز ہے میں سے نہیں تمام قرب الہی کی راہیں معلوم ہوسکتی ہیں پس یہی ایک ذریعہ ہے جس سے خدا تا ہے اور اس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں ہے جس پر قدم مار کر ہم نقدا