خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 176

144 طرح دین کی باتوں پر ہنسی کی تھی اس لیے حضرت شاہ صاحب نے اسے مناسب موقعہ پر یہ جواب دیا کہ کیا کوئی شخص پاخانہ میں بھی سوتا ہے۔ہوتا وہیں ہے جہاں روح کو آرام پہنچتا ہو۔یہ جواب موقعہ کے لحاظ سے درست تھا لیکن حق یہی ہے کہ وعظ میں وہی لوگ سوتے ہیں جن پر غفلت طاری ہوتی ہے۔اور جن کی توجہ وعظ کی طرف نہیں ہوتی۔دور مشہور ہے کہ باوا نانک صاحب ایک ملا کے پیچھے نماز پڑھنے کھڑے ہوتے کہ اتنے میں باو اصاحب نے نبیت توڑ دی اور الگ گوشتہ میں جا کر نماز پڑھ لی جب جماعت ہو چکی تو ملا صاحب جاکر ناراض ہوتے کہ تم نے ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھی، باو اصاحب نے کہا کہ آپ نماز میں کبھی کہیں جاتے تھے کبھی کہیں کبھی آپ پشاور میں جاتے تھے کبھی کاب میں کبھی آپ دتی میں جاتے تھے کبھی اور جگہ چونکہ جھ میں اتنی طاقت سفر نہ تھی اس لیے میں نے نیت توڑ کر الگ نماز پڑھ لی۔تو ملا صاحب اگر چہ نماز پڑھا تھے مگر ان کے خیالات کہیں کہیں بھٹک رہے تھے۔اس لیے ان کی نماز حضور قلب سے نہ تھی۔بعض لوگ مجلس وعظ میں بیٹھے ہوتے دُور دُور کی خبریں لاتے ہیں لیکن جو کچھ ان کے سامنے ہور ہا ہوتا ہے اس سے غافل ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ سنتے بھی ہیں مگر سمجھنے اور فائدہ اُٹھانے کے لیے نہیں۔بلکہ اس لیے کہ دیکھیں خطیب کہاں کہاں غلطی کرتا ہے۔ان کی نظر الفاظ کی غلطی اور نظم پر ہوتی ہے حرکات پر ہوتی ہے مطالب اور معانی اور مسائل ان کو مدنظر نہیں ہوتے۔ایک دفعہ ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لکھنو سے آیا اور حضور ے گفتگو کرتا رہا۔آخر میں کہنے لگا کہ آپ کیا مسیح موعود ہونگے۔آپ قرآن کا قات تو ادا نہیں کر سکتے۔حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب (شہید) حضور کے پاؤں دبا رہے تھے۔انھوں نے اس شخص کے منہ پر تھیٹر مارنا چاہا مگر حضرت اقدس نے ہا تھ پکڑ لیا۔تو بعض لوگ وعظ سنتے ہیں، مگر اس نیت سے کہ دیکھیں واعظ کہاں کہاں غلطی کرتا ہے۔محاسن پر ان کی نظر جاتی ہی نہیں۔پس مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی بات کو بھی تو جہ سے سنے اور جو قابل عمل ہوا اور اعلی درجہ کی ہو۔اس پرعمل کرے۔آپ لوگ چاہتے تو ہیں کہ پکے مومن ہو جائیں۔خدا تعالیٰ کے عاشق بن جائیں۔مگر پھلانگ کر اس منزل کو طے کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ زمینہ زمینی ترقی حاصل ہوسکتی ہے۔یہ نہیں کہ ہم نے ایک بات پکڑ لی ہے۔وہ ہماری نجات کیلئے کافی ہے۔عاشق کا تو قاعدہ ہے کہ وہ دوست کے رستہ میں جسقدر وقتی مصیبتیں آفتیں آتی ہیں۔ان کو نہایت شوق و ذوق سے جھیلتا ہے۔جو اللہ کی طرف سے