خطبات محمود (جلد 6) — Page 17
16 4 کامیابی کیلئے انتظام اور اتحاد کی ضرورت فرموده ۲۵ جنوری شاه ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے پڑھنے کے بعد فرمایا :- انسانی کوششیں اور مختیں ایک حد تک بہت سے عظیم الشان نتائج پیدا کرنے کا باعث ہوتی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لیے اس کی کوششوں کو ترقیات کا اعلیٰ ذریعہ بنایا ہے مگر نیترقی اور کامیابی اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے۔جبکہ کسی انتظام کے ماتحت ہو۔ایک کام اگر بدانتظامی سے ہو تو اس کے اور نتائج نکلتے ہیں، لیکن وہی کام اگر انتظام کے ماتحت ہو تو بہت عالیشان نتائج پیدا ہوتے ہیں پس جہاں انسانوں کے مد نظر یہ بات ہوتی ہے کہ کسی کام کے لیے محنت اور کوشش کریں و بالی یہ بھی ہونا چاہیئے کہ وہ کام ایک انتظام کے ماتحت ہو مسلمانوں کو جس قدر نقصان پہنچے اور ان پر جتنی تباہیاں آتی ہیں۔ان کے اگر اکثر حصہ کو دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی وجہ دنیاوی سامانوں میں انتظام کی کمی ہی ہے، لیکن یہ کسنفد را افسوس کا مقام ہے کہ وہ کام جس کا خدا تعالے نے شریعت کے ماتحت ایسا انتظام کیا تھا کہ جس کی نظیر اور کسی شریعت میں نہیں ملتی۔اس کی تباہی اور بربادی بد انتظامی کی وجہ سے ہوتی ہے۔شریعت موسوی میں یا ہندوؤں، عیسائیوں اور نشستوں وغیرہ میں شریعت کے ماتحت خاص الہام سے کوئی انتظام اور سلسلہ قائم نہیں کیا گیا۔اللہ تعالے نے ان میں بھی انتظام کئے تھے مگر ایسا انتظام کہ جو خاص حکم اور وعدہ کے ماتحت ہوا ہو وہ نہیں۔مگر باوجود اس کے ان میں ایک انتظام رہا۔اور اس سے اُنھوں نے بڑے بڑے فوائد حاصل کئے۔اپنی کمزوریوں اور تباہیوں کے وقت بھی اس سے فائدہ اُٹھاتے رہے مگر مسلمان جن کو قرآن میں حکم دیاگیا تھا کہ ایک انتظام کے ماتحت رہیں اور خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ اور سورہ نور میں وعدہ فرمایا تھا کہ اسی انتظام کے ماتحت تمہیں ترقی اور کامیابی حاصل ہو گی۔وہی سب سے زیادہ انتظام کے توڑنے والے ہوتے ہیں جس کا جو کچھ نتیجہ ان کے حق میں نکلا وہ دنیا جانتی ہے۔دشمنوں کے