خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 16

آقا ہے اور آقا کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ نوکر کو ہرایک کام کے متعلق کہے تب وہ کرے ورنہ نہ کرے اکثر اوقات آقا کی خوشی ہی حکم ہوتا ہے تو استخارہ کے لیے کسی خواب یا الہام کے آنے کی ضرورت نہیں ہوئی، لیکن کئی لوگ اس کو ضروری سمجھتے ہیں۔اور خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں خواہیں آئیں۔حالانکہ ایسی خواہیں جو خواہش پر آئیں کسی مصرف کی نہیں ہوتیں۔دیکھو اگر ایک شخص اپنے دوست کی علاقات کے لیے جائیںگا تو اس کا دوست مقدور بھر اسے اچھی خوراک کھلا ئیگا اور اس کی خاطر تواضع کریگا لیکن اگر وہ طاقات کی نیت سے نہ جائے کہ آپس میں پیارا اور محبت کے تعلقات مضبوط ہوں، بلکہ اس خیال سے جاتے کہ وہاں مجھے اچھا کھانا ملے گا۔تو وہ ایک بیہودہ اور لغو انسان ہوگا کیونکہ اگر وہ ملنے کی نیت سے جاتا تب بھی اسے اچھا کھانا مل جاتا۔اور اب جب کہ صرف کھانے کی خاطر آیا ہے تب بھی مل گیا ہے، لیکن یہ کھانا اس کے لیے کسی فخر کا باعث نہیں۔بلکہ ذلت کا موجب ہے اسی طرح وہ شخص جو اس لیے استخارہ کرتا ہے کہ مجھے خوا ہیں آئیں۔وہ ایک سہود حرکت کرتا ہے اور ایسی خواہیں اس کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہونگی۔پھر اگر استخارہ کرنے پر خوابوں کا آنا ضروری ہے۔تو چاہیئے کہ انسان کو ہر رات خوابیں ہی آتی رہیں۔ہر بات کے متعلق ایسے اسی طرح آگاہ کیا جایا کرے کیونکہ ہر روز نمازوں میں کئی کئی بار وہ استخارہ کرتا ہے لیکن استخارہ کے لیے خوابوں کا آنا ضروری نہیں ہوتا۔بلکہ یہ تو دعا ہے۔اس کے کرنے کے بعد جو خدا دل میں ڈالے اس پر عمل کرنا چاہیئے۔اگر خدا تعالیٰ اس کام کے متعلق انشراح کر دے تو کر لیا جائے۔اور اگر قبض پیدا ہو۔تو نہ کیا جائے " ) الفضل ۵ فروری شالته ) (