خطبات محمود (جلد 6) — Page 149
۱۴۹ حالانکہ ہندوستان کے حاجیوں میں عام طور پر ایسے بھی ہوتے ہیں۔چین کی غرض حج سے محض شہرت طلبی ہوتی ہے۔ورنہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی کوئی خشیت اور خوف نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام فرماتے تھے۔کہ ایک ریل کے پٹیشن پر ایک نابینا بڑھیا بیٹھی تھی۔ایک شخص نے اس کی چادر اتار لی۔اس بڑھیا نے کہا بھائی حاجی مجھے غریب کی چادر کیوں لیتا ہے۔میرے پاس تو کوئی اور کپڑا نہیں ہے میں سردی میں مرجاؤں گی۔وہ چادر تو اس شخص نے رکھدی مگر پوچھا کہ تو نے کسی طرح جانا کہیں اجی ہوں۔بڑھیا نے جواب دیا کہ ایسے کام حاجی ہی کیا کرتے ہیں۔وہ وہ عورت اس سے واقف تھی اور نہ اس کی آنکھیں سلامت تھیں مگر اس نے جو کچھ کہا۔اس کی فطرت کی آواز تھی۔لیکن باوجود اس قسم کی حالت کے پھر بھی عام طور پر حاجیوں کو بڑا نیک اور ج کو بڑی نیکی ہندوستان میں خیال کیا جاتا ہے، لیکن عرب میں جاؤ تو وہ لوگ نیکی حج کو قرار نہیں دینگے وہاں کسی اور ہی چیز کا نام نیکی ہو گا۔ان میں نیکی قومیت کے لحاظ سے سخاوت کو سمجھا جائیگا وہ لوگ اگر کسی کی تعریف نیکی میں کریں گے۔تو کہیں گے کہ یہ شخص بڑا نیک ہے۔کیونکہ بڑا سخی ہے۔اسی طرح اب یورپ میں اسلام پھیلے۔تو وہاں کے لوگ روزے کو بڑی نیکی سمجھیں گئے۔کیونکہ وہ لوگ کثرت سے کھانے پینے والے ہیں۔پس جب ان کو کھانے پینے سے باز رہنا پڑیگا۔تو وہ حج زکوة - نماز و غیره دیگر احکام شرعی کی بجا آوری کو نیکی قرار دینے کی بجائے روزہ رکھنے کو سب سے بڑی نیکی قرار دیں گے۔پر ہندوستان میں یہ بھی بڑی نیکی خیال کی جاتی ہے کہ کوئی شخص نماز کا پابند ہو اس شخص کو کہیں گے کہ یہ بڑا ہی نیک ہے۔کیوں؟ اسلئے کہ نماز کا پابند ہے۔صحابہ کے وقت میں اگر کسی شخص کی تعریف نماز کی پابندی کے باعث کی جاتی تو وہ لڑ پڑتے۔کیونکہ یہ ایسی ہی بات ہے۔جیسا کہا جائے کہ فلاں شخص بڑا بہادر ہے۔کیونکہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا ہے۔یا یہ کہ وہ شخص بڑا ہی تیز نظر ہے۔کہ اس کی ماں اس کے پاس بیٹھی تھی۔اس نے اس کو پہچان لیا۔یا یہ کہ اس شخص کا معدہ بڑا ہی مضبوط ہے کہ اس نے ایک چنا ہضم کر لیا۔پس جیسا کہ بہادری تیز نظری اور مضبوطی معدہ کے یہ معیار نہایت مضحکہ انگیز ہیں۔ایسے ہی صحابہ کے نزدیک کسی شخص کی نیکی کا معیار محض پابندی نماز مضحکہ انگیز تھا۔کیونکہ وہ لوگ نیکی کے اس مقام پر کھڑے تھے۔جہاں پابندی نماز کو ایک بڑی نیکی قرار دینا ایک مضحکہ انگیز بات ہے۔وہ لوگ دین کے لیے بڑی قربانیوں اور سخت آزمائشوں کو نیکی سمجھتے تھے جس میں یہ باتیں زیادہ پاتے تھے۔اسی کو نیک کتنے تھے۔