خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 146

ست 27 خُدا تعالیٰ سے عاکز نیکی تو فیق مانگو فرموده ۱۷ جنوری ساله تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- انسان کے لیے ایک گھلا اور صاف رستہ اللہ تعالیٰ نے تجویز فرمایا ہے۔اور وہ رستہ ایسا ہے کہ جس پر چل کر انسان بلا روک ٹوک بلا خدشہ بلاکسی قسم کی تکلیف اور دکھ کے بلا نا امیدی کیے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جس تک پہنچنا انسان کی پیدائش کا مقصد ہے، لیکن اگر اسے کوئی وقت پیش آتی ہے۔اگر کسی مشکل سے سامنا ہوتا ہے تو وہ اس تھے نفس سے پیدا ہوتی ہے۔اسے ناکامی اس لیے نہیں ہوتی کہ خدا نے اسے رستہ غلط بتایا ہے۔بلکہ اس لیے کہ وہ خود غلط رستہ پر چلتا ہے۔وہ نا مراد اس لیے نہیں رہتا کہ اس کے لیے عمدہ تدبیر نہیں۔تدبیر تو ہے مگر وہ غلط تدبیر اختیار کرتا ہے۔اسی طرح وہ دکھ میں اس لیے نہیں پڑتا کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔علاج ہے لیکن وہ غلط علاج " شروع کر دیتا ہے۔اگر مجتمع طریق اختیار کیا جائے تو بھی نا امیدی نہیں ہوسکتی۔پس کامیاب ہونے کے لیے صحیح راستہ کی تلاش کی جائے۔اور وہ صحیح راستہ سوائے اس کے کہ خدا کے حضور ہی انسان گر جاتے نہیں مل سکتا۔کہتے ہیں دعا مفید چیز ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ واقعی دُعا نہایت ہی عمدہ اور مفید چیز ہے مگر بعض دفعہ دعا کی توفیق ہی نہیں ملتی۔انسان بار ہا سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی سہارا نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان مشکلات سے گزر جاتے مگر اس کو کوئی رستہ نظر نہیں آتا۔وہ جانتا ہے کہ تھا ایک کارگر چیز ہے مگر سستی اسے ادھر متوجہ نہیں ہونے دیتی ہیں دُعا کے لیے بھی دعا کی ضرورت ہے جب انسان خدا کے حضور گر پڑے۔تو اس کو دھا کی توفیق مل جاتی ہے۔کوئی کسے کہ جب دُعا کیلئے بھی دُعا کی ضرورت ہے تو جب وہ دُعا کے لیے دعا کر سکتا ہے۔تو اس مقصد کے لیے کیوں دُعا نہیں