خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 123

حضرت موسی کی قوم کے ساتھ کیاگیا۔جب وہ خُدا سے دور اور اسے چھوڑ چکے تھے تو ہرقسم کی ذلت اور رسائی میں گرفتار کئے گئے۔ان کے لڑکے قتل کئے جاتے تھے۔ان کی عورتیں بے عصمت وبے آبرو کی جاتی تھیں اور فرعون طرح طرح کی ذلتیں ان پر وارد کرتا تھا، لیکن جب وہ حضرت موسیٰ کے ذریعہ خدا کے آگے جھک گئے تو پھر ایک طرف انھیں ذلیل و رسوا کرنے تکلیفیں اور دکھ پہنچانے والے فرعون اور اس کی قوم کا جو کچھ انجام ہوا اسے دیکھو اور دوسری طرف ان کی حالت دیکھو کہ نہایت ذلیل اور رسوائی کی زندگی سے نکال کر حکمران بنا دیئے گئے۔اسی طرح حضرت مسیح کی قوم کو دیکھیو ایک وقت تو اس پر وہ آیا کہ بڑے بڑے دکھوں اور مصیبتوں میں گرفتار کی گئی حتی کہ اس کے خاص معبد میں سور کو ذبح کیا گیا۔مگر خدا نے آخر انھیں کو حکومت دے دی۔پس خدا جب عذاب نازل کرتا ہے تو اس لیے نہیں کرتا کہ اپنی مخلوق کو تباہ و برباد کر د سے بلکہ عذاب کے لیے اس کی مہربانی ہی تقاضا کرتی ہے کہ میری مخلوق جو بکرا گئی ہے اس کی اصلاح ہو جاتے۔تو یہ اس کے رحم کا ہی تقاضا ہوتا ہے کہ لوگ عذاب میں گرفتار کئے جاتے ہیں۔دیکھو کوئی ایسا ڈاکٹر مریض پر رحم کرنے والا نہیں کہلا سکتا جو اس کے خراب اور سارے جسم میں فساد پھیلانے والے عضو کو نہیں کاٹتا کیونکہ ڈاکٹر کا مریض کے لیے یہی رحم ہے کہ اس کا جو عضو کاٹنے کے قابل ہے۔اسے کاٹے سے تا کہ باقی جسم کی اصلاح اور حفاظت اس کے کاٹنے سے ہو جائے۔پس جب ایک ڈاکٹر مریض کے جسم میں فساد ہوتا دیکھے گا۔تو نشتر چلا ئیگا۔اور کوئی پروا نہیں کریگا۔کیونکہ ہی اس کے رحم کا تقاضا ہے۔مثلاً کسی شخص کے مثانہ میں تھری ہو تو ڈاکٹر کارم یہ نہیں ہو گا کہ اس کو چھوڑ دے بلکہ اس کا رحم اسے مجبور کر بیگا کہ نشتر چلاتے اور جسم کو چیر کر اس تکلیف دینے والی چیز کو نکال ڈالے۔تو جیسے ایک ڈاکٹر کار جسم اور ہمدردی مریض کا مرض دُور کرنے کے لیے نشتر چلانے کا تقاضا کرتی ہے۔ایسے ہی خدا تعالیٰ کی رحمت بھی انسان کے فساد کو دور کرنے کے لیے عذاب کا بھیجنا ضروری بجھتی ہے اور جیس طرح جب تک مرض دور نہیں ہوتا۔اس وقت تک ڈاکٹر کا نشتر کام کرتا رہتا ہے، لیکن جب مرض رفع ہو جاتا ہے تو مریض کو عمدہ غذائیں دی جاتی ہیں۔ہر طرح اسے خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی طرح خداوند کریم بھی اسی وقت یک عذاب دیتا ہے جب تک کہ لوگوں کی اصلاح نہیں ہوتی۔اور جب انسانوں کی اصلاح ہو جاتی ہے تو پھر انھیں ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے۔مگراب دیکھنا یہ چاہیئے کہ دنیا میںیہ جو سم قسم کی ہلاکتیں اور تباہیاں آر ہی ہیں۔ان کے لانے کا