خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 117

114 ماں اسے گود میں اٹھالیتی ہے تو بھی نادان بچہ روتا ہے مگر اس وقت اس کا رونا خوف اور خطہ کا رونا نہیں ہوتا۔بلک خوشی کا رونا ہوتا ہے، لیکن انسان دانا ہوکر تجربہ کار ہوکر اور ایک عمر گزار چکنے کے بعد جب مصائب اور مشکلات میں گرفتار ہوتا۔تباہی اور بربادی کے نظارے دیکھتا، ہلاکت اور موت کے منظر مشاہدہ کرتا ہے تو چیختا چلاتا ہے۔مگر خدا کی طرف نہیں جھکتا۔اس کی پناہ نہیں ڈھونڈھتا اور اس کی آغوش میں آنے کی سعی نہیں کرتا۔نادان بچہ ڈرتا ہے اور روتا ہے۔اور انسان بھی مصائب میں گرفتار ہوکر روتا ہے، لیکن بچہ جب ماں کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو وہ رنج و خطر کا رونا چھوڑ کر خوشی کا رونا روتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک دنیا بھر کی تکالیف کا علاج اگر کوئی ہے تو ماں کی آغوش ہی ہے اور جیسے وہ بجھتا ہے کہ میں اس آغوش میں پہنچ گیا توپھر ساری دنیا کی بلائی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔مگر انسان روتا ہے حالانکہ خدا اسکے پاس ہوتا ہے اسی حالت میں بھی وہ روتا ہے اور اسکا یہ رونا بچہ کی طرح خوشی کا رونا نہیں ہوتا بلکہ خطرات کا رونا ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ خدا کی آغوش اس کے لیے کھلی ہوتی ہے، تاہم خدا کی آغوش میں وہ خطرات اور مصائب سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں خیال کرتا حالانکہ ماں کی خدا کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے کہ جس کی گود کو اک نادان بچہ ترنم کے خطرت سے بچنے کی جگہ بجھتا ہے اور میں پہچنے کی کوشش کرتا ہے۔جنگ بدر کا واقعہ ہے رسول کریم صلی الہ علیہ تم نے دیکھا کہ ایک عوت گھبرائی ہوئی پھر ہی تھی آپ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا تم جانتے ہو یہ عورت کیوں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے۔اس کا لڑکا ہے۔جو اس سے جدا ہو گیا ہے۔یہ اس کو تلاش کرنے جار ہی ہے۔اس کو خیال ہے کہ آج جنگ کا دن ہے۔تلواریں چل رہی ہیں کہیں میرا بچہ ہلاک نہ ہو جاتے یا غلام بنا کر یا نہ جاتے اور پھر خدا جانے کس کس ملک میں مارا مارا پھرے۔ہر ایک بچہ کو جو اسے دکھائی دیتا ہے۔سینہ سے لگاتی ہے کہ شاید یہی میرا بچہ ہو۔فرمایا تم نے دیکھا کہ اس ماں کو اپنے بچہ کے کھوتے جانے کا کس قدر کرب ہے، لیکن اللہ تعالے کو اپنے بندے کے گم ہونے سے اس سے کہیں زیادہ کرب ہوتا ہے لیے سچی بات یہی ہے کہ ماں کیا اور باپ کیا۔اللہ کی محبت اور اللہ کی آغوش واقعی ایسی آرام کی جگہ ہے جس کی کسی کے ساتھ مثال ہی نہیں دی جا سکتی۔بچہ ماں کی آغوش کو تمام جہان کے دکھوں سے آرام پانے اور بہترسم کے خطرات سے محفوظ رہنے کی جگہ خیال کرتا ہے، لیکن وہ غلطی کرتا ہے کیونکہ ماں کی حقیقت ہی کیا ہے۔ایک چپڑاسی بھی اسے دھمکا سکتا ہے۔یا بیوہ عورت دیکھ کر ظالم محلہ کے له بخاری کتاب الادب باب رحمته الولد و تقبيله ومعالقته