خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 92

17 ۹۲ مومن وہ ہے جو علی وجہ البصیر ایمان رکھتا ہو فرموده مارتین رشاشاته حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ یوسف کی مندرجہ ذیل آیت تلاوت كي - قُلْ هَذِهِ سَبِيلِ ادْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيُّ، وَسُبْحْنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورة يوسف : ١٠٩) اور اُس کے بعد فرمایا :- بہت سے لوگ دُنیا میں ایک بات کے ماننے کے دعویدار ہوتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ان کے پاس اس کے حق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔انسان کو دوسری مخلوق پر فضیلت حاصل ہے۔کہ ے خدا تعالیٰ نے امتیاز کی طاقت دی ہے یعنی بُری اور اچھی چیز میں سے جو اچھی چیز ہو اس کو بری سے الگ کر کے اس پر عمل کرے جگر جانوروں میں یہ بات نہیں رکھی گئی۔وہ جس حالت میں ابتداء میں تھے اسی میں چلے آتے ہیں۔تاہم انسان میں یہ طاقت ہونے کے باوجود کم لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔اور بہت ہیں جو کسی امر کو سچا مانتے ہیں لیکن اگر ان سے دریافت کریں تو وہ بیان نہیں کر سکیں گے۔کہ وہ کیوں اس عقیدہ کے قاتل ہیں۔اگر تمام دنیا کی مردم شماری کی جائے تو ایک کروڑ میں سے 99 لاکھ ایسے ہونگے جو آبائی مذہب پر قائم ہوں گے۔بلکہ اس سے بھی زائد اور بہت سے ایسے ہونگے جو اپنے مزعوم دین کے لیے جان بھی دیدیں گے مگر اس کے پیچھے ہونے کی دلیل ان کے پاس کوئی نہیں ہوگی کیونکہ وہ توکسی مذہب کے قائل ہیں۔تو اس لیے نہیں کہ اُنھوں نے تحقیق کر کے اسے قبول کیا ہے بلکہ اس لیے کہ انکے ماں باپ اس مذہب کے قاتل تھے۔پچھلے دنوں جو بہار میں فساد ہوا۔اگر ان ہندوؤں سے جاکر پوچھا جاتے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کا جوش و خروش کیوں تھا۔اور کیوں ان کو دکھ دیا گیا۔تومیں یقین کرتا ہوں کہ وہ اس کی سوائے اس کے کوئی وجہ نہیں بتا سکیں گے۔کہ وہ لوگ ہندو نہ تھے لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہندو مذہب کیا ہے اور تم کیوں ہندو کہلاتے ہو تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ بات تو ہمارے پنڈتوں ندية