خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 78

اعلی سندات حاصل کروں مگر اسکو معلوم نہ ہو کہ فاضل ہونے کے لیے کس قدر محنت کی ضرورت ہے اور وہ ایک آدھ گھنٹہ پڑھ کر ہی اس کو کافی سمجھ لے تو کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیگا۔ہرگز نہیں کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ فاضل بننے کے ذرائع معلوم کر کے ان پر کاربند ہو اور اس مقصد کے راستہ میں حائل ہونے والے مواضعات کا پتہ لگا کر انہیں دور کرے۔اگر وہ ایسا کریگا تولا زما کامیاب ہو جائیگا یہی بات ہر ایک مقصد اور دُعا کے لیے ضروری ہے۔ہماری جماعت میں داخل ہونے والوں کے لیے بھی اس کی طرف توجہ کرنے کی بہت ضرور ہے انہیں چاہتے کہ وہ سوچیں کہ اس جماعت میں داخل ہونے کی ہماری غرض کیا ہے اور کیا فوائد ہیں جو ہمیں حاصل ہونگے اور کیا مشکلات ہیں جو ہمارے راستہ میں حائل ہونگی۔پھر یہ جن اغراض کو لیکر ہم اس جماعت میں آتے ہیں اور جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔ان کو پورا کرنے کے لیے کسقدر سعی اور کوشش کی ضرورت ہے۔کیونکہ اگر یہ معلوم نہیں اور اس کے مطابق عمل نہیں تو ان کی کوشش اُدھوری ہو گی۔ان کے جوش سرد ہونگے۔ان کی محنت ناتمام ہو گی۔اور ان کے ولولے ٹھنڈے ہونگے انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کے صرف احمدی کہلانے کی وجہ سے انہیں کامیابی حاصل نہ ہو جائیگی۔کیونکہ کامیابی نام سے نہیں ہوتی۔بلکہ کام سے ہوتی ہے اور کام پورے جوش اور محنت سے اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس کے فوائد اس کے کرنے کے طریق اور اس کے موانعات کا پورا پورا علم اور آگاہی نہ ہو۔صرف نام رکھ لینے سے اگر کامیابی ہو سکتی تو پھر خدا تعالیٰ کو ایک نب کو بھیج کر اس کے بعد کسی دوسرے کے بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی۔فقط ایک آدم علیہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے آدمی کہلاتے رہتے اور آج تک آدمی کہلا رہے ہیں، لیکن چونکہ محض آدمی کہلانا کافی نہیں تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے بعد دوسرے نبیوں کو بھیجا۔کیونکہ آدمی اسما تو کہلاتے تھے لیکن وہ آدم کی حقیقت ان میں نہیں پائی جاتی تھی۔جو حضرت آدم میں خدا نے رکھی تھی اور جس کے لیے انہیں مبعوث کیا تھا۔اسی طرح نوح علیہ السلام کی اُمت نے حضرت نوح کے کاموں کو جب چھوڑ دیا۔تو با وجود حضرت نوح کی اُمت کہلانے کے خدا نے ایک اور نبی بھیجا۔جس نے ان کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کیا۔پھر اگر محض نام کے لحاظ سے کسی جماعت میں داخل ہو جانا نجات کے لیے کافی ہوتا۔تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے سے نجات ہوتی کیونکہ آدم کی تمام اولاد میں سے آج تک کوئی انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی شان کا پیدا نہیں ہوا، اور نہ آئندہ پیدا ہو گا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی آدم پر ہر لحاظ سے فضیلت اور بڑائی بخشی ہے۔پس اگر کسی اہمی تعلق کی وجہ سے