خطبات محمود (جلد 6) — Page 578
OLA پس اپنے مانوں کو آرام پہنچاؤ۔جہاں تک پہنچا سکو۔اور اس لیے خدمت مہمان کردو کہ خدا کا حکم ہے اس سے ثواب ہوگا۔نیز اس لیے بھی کہ اس سے اپنے نفس کی تربیت ہوتی ہے۔یاد رکھو ہر ایک میزبان اپنے مہمان کے لیے نمونہ نہیں ہوتا۔مگر تم ان کے لیے نمونہ ہو کیونکہ تم اس بستی میں رہتے ہو، جو ام القریٰ ہے۔اگر اس میں رہنے والے تم لوگ دوسروں سے ماں باپ جیسی شفقت ن کر سکوں تو کم از کم بڑے بھائی مبنی تو شفقت ضرور کرنی چاہیئے۔جو لوگ یہاں آتے ہیں۔وہ نہیں دیکھتے ہیں۔اور تمہارا نمونہ پکڑتے ہیں یہیں تم اخلاق دکھاؤ۔تاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ ہیں کہ اسلام کا اخلاق سے تعلق ہی ہیں۔یاد رکھ کبھی کوئی مسلح درندہ اور وحشی نہیں ہوتا۔اگرتم نمونہ عمدہ نہ کھاؤ گے تو لوگوں پر برا اثر پڑ گیا۔تمہارا ایسا نمونہ ہونا چاہیئے کہ وہ آئیں اور تمہاری حالت سے سبق سیکھیں۔ایک دوست نے قادیان کو شفا خانہ کہا ہے، لیکن اگر یہاں مریض آئیں۔اور مریض ہی رہ ہیں حتی کہ مر جائیں۔تویہ شفاخانہ نہیں موت خانہ ہوگا۔شفاخانہ وہ ہوتا ہے۔جس میں نئے مریض آئیں اور پہلے شفا پا کر نکل جائیں تم یہاں چند دن کے لیے نہیں آئے۔اس لیے تم اپنے کو تندرست ثابت کرو۔پس قادیان کی مثال شفاخانہ کی نہیں۔بلکہ مدرسہ کی ہے۔یہاں لوگ علوم و معارف اور اخلاق سیکھتے ہیں۔اگر باہر والے تم سے زیادہ جانتے ہیں۔تو تم نے کچھ نہ سیکھا۔پس اپنے کو زیادہ قابل زیادہ مہذب با اخلاق ہمدرد ثابت کرو، کیونکہ اگر یہ نہیں تو خدا پرستی تو الگ رہی۔ابھی تم نے انسانیت کو بھی حاصل نہیں کیا۔تم وہ چیزیں حاصل کرو اور ثبوت دو کہ تمنے دو چیزیں حاصل کی ہوتی ہیں۔تاکہ لوگ دیکھیں کہ تم نے بے فائدہ اپنے گھروں کو نہیں چھوڑا۔اور تمھاری تبدیلی دوسترون پر اثر ڈالے۔یہ میری مختصر نصیحت ہے۔اس کو قبول کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو " ) الفضل ۲۳ دسمبر له )