خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 516

۵۱۶ ایمان کی کمیل کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ انسان خود بھی لڑائی سے بچے۔اور دوسروں کو بھی لڑائی سے بچائے خود لڑنے والا ایک حد تک معذور کہا جاسکتا ہے۔مثلا کسی نے اس کو گالی دی۔اس کو غصہ آیا لیکن جو شخص گلی میں سے گزرتا ہوا اس لڑائی کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے اور لگا دو چار اس خبیث کو یہ ہے ہی انبیاء وہ زیادہ مجرم ہے حالانکہ یہ موقع تھا کہ وہ خیال کرتا کہ مجھے اس موقع سے ثواب لینا چاہیئے۔اور اس لڑائی کو بند کرا دینا چاہیئے، لیکن جو بند کرانے کی بجائے لڑائی کو اور بھڑکاتے ہیں اور فریقین میں سے جس کی طرف ہونے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔اُدھر ہو جاتے ہیں۔اور دوسرے کو گالیاں دینے یا اس کو اور مارنے کی تحریک کرتے ہیں۔یا کہتے ہیں اے اج دی گل اے؟ اے تاں پچھوں بھی تینوں گالیاں دیندا ہے ؟ اور خود تماشہ دیکھتے ہیں۔وہ سخت گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کا فعل امن کو درہم برہم کر نیوالا ہوتا ہے۔بعض لوگ ایک اور طریق اختیار کرتے ہیں۔مثلاً دو شخصوں میں لڑاتی ہے۔ایک سے بات سنکر دوسرے کے پاس جا لگاتے ہیں اور دو چار اپنی طرف سے اس پر حاشیہ بھی چڑھا دیتے ہیں۔غرض کئی طریق سے لوگ ختنہ کراتے ہیں، لیکن اسلام فتنوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔بلکہ قرآن مومنوں کو بھائی بھائی بتاتا ہے جس طرح بھائیوں کی حالت ہوتی ہے۔اسی طرح مسلمانوں کی ہونی چاہیئے۔اگر کہیں لڑائی کے سامان ہوں۔تو ان کو دور کرا دینا چاہیئے۔تمہارے ہاتھوں میں مٹی کے تیل کے برتنوں کی بجائے پانی کے برتن ہونے چاہتیں۔جن سے آگ بجھے۔آگ سے کھیلنے والے نادان ہوتے ہیں۔اس سے بچنے میں لامتی اور کھیلنے میں جان کا خطرہ ہے۔شیر کے پنجرے کو اس لیے کھولنا کہ وہ سامنے کھڑے ہوتے دشمن کو کھا ئیگا، نادانی ہے۔کیونکہ اس کو تو کھا ہی لیگا۔مگر کھولنے والا شیر سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔یاد رکھو۔دو کی لڑائی دو کی نہیں ہوتی بلکہ اپنے تعلقات کے لحاظ سے بہت سے لوگوں کی لڑائی ہوتی ہے۔مثلاً دو شخصوں میں لڑاتی ہے۔دونوں کے جسقدر رشتہ دار اور رشتہ داروں کے رشتہ دار ہونگے جو سینکڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ان سب میں لڑائی ہو گی اور اس طرح افراد کی لڑائی خاندانوں محلوں شہروں اور ملکوں تک پہنچ جائیگی۔تو چھوٹے فساد بڑے تاریخ پیدا کرتے ہیں۔(1182 اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے فساد اور فتنوں سے منع کیا ہے اور قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومنوں کو چاہیے کہ انہیں بنا بنا کر فساد اور فتنوں کو دور کریں فرمایا۔لَا خَيرَ فِي خَشِير من بخواهم إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَو مَعْرُون NG TOLOGN LANنَ النَّاسِ ( النساء (١١٥) رسوائے اس قسم کی انجمنوں گے اور کوئی انجمن ٹھیک نہیں کہ مشورے ہوں۔نیکی کے کاموں کے لیے۔یا غرباء میں صدقہ بانٹنے کے لیے غرباء کی مدد کے لیے۔یا لوگوں کی اصلاح اور ان میں آپس میں