خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 491

۴۹۱ لگتا۔اور وہ مسلول یا مدقوق ہو جاتا ہے۔اور انسی امراض سے بہت زیادہ موتیں ہوتی ہیں۔برخلاف اس کے جو مرض شدت سے حملہ کرتے ہیں۔ان میں ایسی ہلاکت نہیں ہوتی۔طاعون سے جو لوگ ڈرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں شدت سے حملہ کرتی ہے جس سے اکٹھے کئی لوگ مرتے ہیں لیکن مرض سل یا دق کا حملہ ایک جگہ پر نہیں۔ایک وقت میں نہیں ہوتا۔بلکہ یہ تمام ملک پر پھیلتی اور آہستہ آہستہ اپنا کام کرتی ہیں۔اس لیے ان سے اس طرح لوگ خائف نہیں ہوتے جس طرح طاعون وغیرہ سے یک لخت آدمیوں کے مرنے سے۔ورنہ امراض کے واقفوں نے تحقیق کی ہے کہ جبقدر اموات سل اور حق سے دنیا میں ہوتی ہیں۔اور کسی مرض سے نہیں ہوتیں۔اسی طرح اخلاق کی خرابی کا مرض بھی سل اور دق کا سا ہے جو آہستہ آہستہ آتا ہے۔میں نے اس کے متعلق بار ہا توجہ دلاتی ہے مگر اس کی طرف تاحال کافی توجہ نہیں کی گئی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مرض خفیہ طور پر آہستہ آہستہ آتا ہے۔دق وغیرہ اس طرح ہوتی ہے کہ صبح و شام ذرا کسل ہونا شروع ہوا یا سردرد ہو گیا۔اس کو معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔اور اس کا پتہ اسی وقت لگتا ہے جس وقت جسم پر غلبہ پالیتی ہے۔یہی حال اخلاقی خرابیوں کا ہوتا ہے۔بچوں میں بد اخلاقی اس وقت پیدا ہونی شروع ہوتی ہے جس وقت کہ ماں باپ اس کے سامنے کوئی بداخلاقی کی بات کرتے ہیں۔یا جب بچہ کوئی بد اخلاقی کرتا ہے۔تو وہ ہنس دیتے ہیں۔اور جب بچوں میں جھوٹ وغیرہ کی عادتیں راسخ ہو جاتی ہیں۔تو ان کو روکنا شروع کرتے ہیں۔بڑا نقص جو ہمارے ایشیائیوں میں ہے۔وہ ہمدردی کی کمی ہے کسی کے دکھ کو دیکھتے ہیں اور کہ دیتے ہیں کہ ہمیں کیا۔اور یہ عام مرض ہے۔بلکہ پنجابی میں تو ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے۔کہتے ہیں کہ فلاں کیا میرا چاچا لگتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ہمدردی کی حد چا تک ہی ہے۔اس کے آگے نہیں، لیکن یہ کوتاہی اتنی بڑی کوتاہی ہے کہ انسان کو انسانیت سے گرا دیتی ہے۔انسانی دل دل نہیں کہلا سکتا۔جب تک کہ اس میں بنی نوع کی ہمدردی نہ ہو۔ہمدردی کے بغیر انسان انسان نہیں رہتا۔بلکہ حیوان کے درجہ پر آجاتا ہے۔اور حیوانوں میں سے بھی گنے کی مثال ان لوگوں کی ہو جاتی ہے۔کیونکہ بعض لوگ تو وہ ہوتے ہیں جنکو مطلق ہمدردی نہیں ہوتی۔ان کی مثال بیلوں وغیرہ حیوانوں کی ہوتی ہے ان میں بجائے ہمدردی کے یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی زخمی بیل پڑا ہو۔تو دوسرا بیل بجاتے ہمدردی کے اس میں سینگ مار جائیگا۔اسی طرح ایک بکری کی بھی یہی کیفیت ہو گی۔بندر کو بھی کوئی ہمدردی زخمی بندر سے نہیں ہوگی ، لیکن کتے کو ہمدردی ہوتی ہے۔مگر اپنے ہم جنس سے نہیں بلکہ کتا اگر کسی