خطبات محمود (جلد 6) — Page 490
۴۹۰ کرتے ہیں۔پس اس شخص کے لیے جو مومن بنا چاہتا ہے۔ضروری ہے کہ وہ اس اصل غرض کو جو مذہب کی ہے سمجھے اور اس کو پورا کرے اعتقادات کو درست کرے اور اعمال کو بجالائے اور اخلاقی تعلیم پر بھی کاربند ہو۔اگر کوئی شخص دوسروں سے اچھے تعلقات نہیں رکھتا۔ذاتی خیالا میں پاکیزگی حاصل نہیں کرتا۔اپنے اخلاق کو درست نہیں رکھتا۔تو اس کی نماز بے سود ہے۔اور جو شخص نماز اور دوسرے اعمال کو چھوڑ کر صرف دل کی نماز ہی پڑھتا ہے۔وہ بھی بے دین ہے۔نہ تو وہ شخص دیندار ہے جو رات دن نمازیں تو پڑھتا ہے، مگر اخلاق اور معاملات میں بہت گرا ہوا ہے اور نہ و شخص دیندار ہے جو اخلاق ہی کو دین سمجھا ہے۔اور نماز روزہ جو احکام شرعی ہیں۔ان کو چھوڑتا ہے۔دیندار وہی ہے جو ادھر اللہ تعالیٰ کے حقوق بجالاتا ہے اور ادھر مخلوق کے حقوق کو پورا کرتا ہے۔مگر بہت میں جو دین کو چند رسوم کا مجموعہ مجھے ہوتے ہیں۔اور افسوس ہے کہ بعض ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں کہتی ہیں جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں، لیکن نمازوں میں سستی کرنے والوں کی نسبت ایسے زیادہ ہیں جو نمازوں میں تو باقاعدہ ہیں مگر اخلاق میں بہت پیچھے ہیں۔اور کی کو دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر ایک شخص سے زنا بھی سرزد ہوجائے مگر وہ کوشش کرتا ہو کہ اس گناہ سے بچے۔اور اپنی غلطی کا احساس کرے۔تو وہ ایماندار اور مومن ہے تو جو شخص بدی کو بدی سمجھتا ہے۔وہ با وجود اس کا ارتکاب کرنے کے اتنا گنہگار نہیں۔اور ایمان سے اتنا دور نہیں۔جتنا وہ شخص جو گناہ کا احساس ہی نہ رکھتا ہو۔اور اس سے بچنے کی کوشش بھی نہ کرتا ہو۔اسی طرح اگر ایک شخص میں کوئی اخلاقی نقص ہے۔مگر وہ اس کو نقض سمجھتا ہے۔نماز روزہ میں سست ہے مگر وہ اس کو غلطی مان کر شرمندہ ہوتا ہے۔تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص مثلاً بازبانی کا مرتکب ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اس فعل سے شرمندہ نہیں ہوتا۔تو اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جس مرض کا احساس ہو۔اسی کا علاج ہو سکتا ہے۔ایسا ہی مریض علاج کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔سب سے زیادہ خطرناک مرض وہ ہوتا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا۔اور جو آہستہ آہستہ اپنے پاؤں جاتا ہے۔مثلاً دق اور سل یہ دونوں مرض نہایت آہستگی سے آتے ہیں۔انسان کو عام طور پتہ بھی نہیں له مسند احمد بروایت مشکواة كتاب الاسماء باب في رحمة الله وغفرانه