خطبات محمود (جلد 6) — Page 49
۴۹ 10 ہر ایک چیز میں تغیر ہے اچھے تغیر کیلئے دعائیں کرو د فرموده ۸ مارچ ۱۹۱۷ حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت میں آج بھی مجبوری کی وجہ سے وہ مضمون جو میں نے شروع کیا ہوا تھا نہیں بیان کر سکتا۔چونکہ ابھی تک میرا حلق اس قابل نہیں ہوا کہ سب تک اپنی آواز پہنچا سکوں اس لیے آج میں پھر اسی مضمون کو جس کے متعلق پچھلے جمعہ توجہ دلائی تھی کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔سورة فاتحہ میں علاوہ ان تمام معارف اور حقائق کے جو بیان کئے گئے ہیں۔ایک معرفت کا نکتہ یہ بھی ہے۔کہ تمام مخلوق کی حالت یکساں نہیں رہتی مخلوق کی تغیر پذیری کہاں سے ثابت ہے ؟ سویاں ہے کہ یہ بات الحمد للہ رب العالمین سے ثابت ہوتی ہے۔ربت کے معنے ہیں کہ جو پہلے پیدا کر کے اور پھر اس کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف ترقی دیتا ہوا لے جاتے۔پھر اس کی ضروریات کے مطابق آہستہ آہستہ اس کو کمال تک پہنچائے۔یعنی رب کے ہیں۔اور اس سورۃ میں بلدیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کارت اللہ ہے خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین پر نباتات ہو یا جمادات سب کا رب اللہ ہی ہے۔ایویلیوشن تھیوری اپنی اصلی صورت میں ہی ہے۔اس کے استعمال میں غلطی لگی ہے کہ آیا بندر سے انسان نے ترقی کی ہے۔یا گیا۔یورپ نے اس تھیوری کو اب ایجاد کیا ہے، لیکن قرآن نے آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پیشتر اس حقیقت کو ظاہر کر دیا تھا۔یورپ کی حیرت انگیز ایجادات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر ایک چیز ادنی 'حالت سے اعلیٰ مدارج پر پہنچتی ہے۔کیونکہ اگر کوئی ایسی چیز ہو جواد نی حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف نہ جاتی ہو۔تو خدارت العالمین نہیں رہتا۔اس نکتہ کو نہیں قرآن نے بتا دیا کہ ہر ایک چیز خواہ کہیں ہو۔اس میں تغیر کرنے والا خدا ہے۔سورۃ فاتحہ تمہید ہے اس تفسیر کی جو خداوند عالم نے انسان کے سامنے دھری ہے۔پہلے فرمایا کہ ہر ایک چیز میں تغیر ہے۔پھر فرمایا الرَّحْمنِ الرَّحیم خدا تعالیٰ کے انعام کے دو طریق