خطبات محمود (جلد 6) — Page 469
۴۷۹ 87 اعتصام بحبل الله بدظنی سے بچو فرموده ۲۵ جون ۱۹۳۰ ته تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :- یں نے پچھلے بعض خطبات میں اتفاق و اتحاد کے لیے جن اصول کی نگہداشت کی ضرورت ہے بیان کیا تھا۔اب اس مسئلہ کی تفصیل کی طرف اشارہ کر کے اس کو ختم کرتا ہوں۔جو کچھ اب تک بیان ہوا وہ اصولی تھا۔اب جبرئی اور تفصیلی بیان ہوگا۔اتفاق و اتحاد کو ٹانے والی کونسی باتیں ہیں۔در حقیقت ان کی تفصیل مشکل ہے۔کیونکہ دنیا میں کوئی ایسا جرم نہیں۔جو خواہ اخلاقی جرم ہو یا شرعی کہ اس سے اتحاد کو خطرہ نہ ہو۔اخلاقی جرم کو شرعی جرم سے علیحدہ کرنے کی یہ وجہ نہیں کہ اخلاق شریعت میں داخل نہیں بلکہ شرعی جرائم سے مراد وہ جرائم ہیں۔جو محض شریعت اسلام کے نزدیک جرم ہیں۔اور اخلاقی وہ جرائم ہیں۔جن میں اسلام کے ساتھ دوسرے مذہب بھی شامل ہیں۔اور وہ مسائل بھی اخلاق ہی کہلائیں گے۔جو فطرت سے متعلق ہیں۔مثلاً اسلام کہتا ہے چوری نہ کرو چوری کرنا اخلاقی جرم تو اس لیے ہو گا کہ تمام مذاہب میں چوری سے منع کیا گیا ہے اور شرعی اس لیے کہ اسلام بھی چوری سے روکتا ہے۔اسی طرح اسلامی شریعت حکم دیتی ہے کہ جھوٹ نہ بولو۔یہ شرحی جرم ہے کیونکہ اسلام اس سے روکتا ہے۔مگر اخلاقی بھی ہے۔کیونکہ سب مذاہب جھوٹ کے ترک کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ جھوٹ بولنا اخلاقی جرم ہے۔اگر غور کیا جائے تومعلوم ہوگا کہ یہ تمام اخلاقی جرائم اور وہ جرائم جن سے فطرت نفرت کرتی ہے۔ان سے نفرت کی بناء شرائع نے ہی ڈالی ہے۔پہلے پہل ایک نبی نے پیش کیا کہ یہ باتیں بری ہیں۔ان سے بچو اور تمام انسانوں نے قبول کر لیا۔اس لیے یہ مسائل فطرت میں داخل ہو گئے۔چونکہ یہ سب دنیا کے نزدیک مسلم