خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 463

دعاوں کے ذریعہ فرب تلاش کرو۔ہاں جو بیار ہیں جن کو عرف میں بیمار کہتے ہیں، اور جو سفر میں ہو۔ان کے لیے بھی روزے معاف نہیں ،وہ دوسرے ایام میں رکھیں۔اگر تندرست سے تندرست شخص بھی طبیب کے پاس جاتے تو وہ کوئی نہ کوئی ملا کر کے مرض بتائے گا۔ایسا مرض مرض نہیں بلکہ عرف میں جس کو مرض کتے ہیں وہ مرض ہوتا ہے۔اور اسی طرح سفر بھی وہ جو اتفاقی طور پر پیش آئے، لیکن جو شخص تاجر ہے یا جو ملازم ہے۔اور اس کا کام ہے کہ وہ دورہ کرے یہ سفر نہیں سفر اتفاقی سفر کو کہتے ہیں جس کو مستقل سفر پیش رہے وہ مسافر نہیں جیسے پھیری والا۔زمیندار کہتے ہیںکہ ہمیں کام سخت کرنا پڑتا ہے۔ہم نہیں روزہ رکھ سکتے۔سو ان کو معلوم ہو کہ ان کا جو کام ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے لیے جسمانی تکلیف کم ہو گئی ہے اس سخت کام کے باعث ان کے بیٹوں کی حس کم ہو گئی ہے۔تم نے دیکھا ہوگا کہ ایک دماغی کام کرنے والا اگیر اپریشن کرائے تو اس کے لیے کلو را فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔اور زمیندار کہ دیتا ہے کہ کلورا فارم کی ضرورت نہیں وجہ یہ کہ دماغی کام کرنے والے کی حس تیز ہے اور اس کی کزور پس دماغی کام کرنے والے جوہیں - واس محنت کو برداشت نہیں کر سکتے۔اس لیے دھوپ سے بچ کر کام کرتے ہیں۔اور زمینداروں کو جہانی کام کرنا پڑتا ہے۔اس لیے اگر وہ روزہ رکھیں۔توان کی سختی پسند حالت کے باعث ان کے لیے کوئی تکلیف نہیں ہوسکتی۔پڑھنے والا پڑھ پڑھ کر کمزور ہو گیا ہے۔اور زمیندار کو مضبوط بنایا گیا ہے۔اس لیے اس قدرت کے سامان کے ماتحت زمینداروں کے لیے بھی روزہ کچھ مشکل نہیں۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ توجہ کریں کہ نماز تو ایک ایسا حکم ہے جوکسی حالت میں بھی چھوڑا نہیں جا سکتا ہے، لیکن روزہ ایسا ہے کہ بیماری اور سفر میں ملتوی کیا جاسکتا ہے۔اس کا رکھنا ایمان کے حصول اور تقویٰ کے لیے ضروری ہے۔جو لوگ ملاتے ہیں۔وہ اسلام کو دوسروں کی نظروں میں حقیر کرتے ہیں۔اور عملی طور پر وہ خود بھی گویا حقارت سے دیکھتے ہیں پس اس سے بچو۔یاد رکھو۔جو اسلام کے احکام کی حقارت کرتا ہے۔وہ اسلام کو چھوڑتا ہے۔اور اس نعمت کو رد کرتا ہے۔جو خدا کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔جب دوسرے خطبہ کے لیے حضور کھڑے ہوئے تو فرمایا ، یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے۔اس میں بکثرت دعائیں کرنی چاہئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں بالخصوص دعائیں کرتے تھے لیے پس تم ان دنوں میں اپنے لیے دعائیں کرو۔اور ان بھائیوں کے لیے کرو جو تبلیغ کے لیے اپنے گھروں سے نکلے ہوئے ے بخاری و مسلم بر دايت مشكورة كتاب الصوم باب ليلة القدر