خطبات محمود (جلد 6) — Page 451
۴۵۱ وہاں اتحاد نہیں۔پس اتفاق کے لیے خوف ضروری ہے۔اس آیت کریمہ میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے تتجانی جُنُوبُهُمْ عَنِ المَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُم خَوْفًا وَطَمَعًا اس میں فرمایا کہ مومن کون ہے اور اس کی علامت کیا ہے۔تتجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ المَضَاجِع - ان کے پہلو بستروں سے اٹھے پڑتے ہیں۔يَدُعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمعًا - اپنے رب کو خوف اور طمع سے پکارتے ہیں خوف و طمع دونوں باتیں ملتی ہیں - اور سے وضع دونوں تو ایک شخص مومن ہوتا ہے۔ایک کو مٹا دو تو مومن نہیں، لیکن جب یہ دونوں باتیں جمع ہوں۔تب انسان مومن ہوتا ہے۔اور مومن کے معنے ہوتے ہیں۔امن دینے والا۔مومن دُنیا کو امن دیتا ہے۔اور خود سچی بات مان کر امن میں آتا ہے۔اور پھر دوسروں کو امن پہنچا تا ہے۔پس اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے لیے خوف ضروری ہے اور اتفاق بغیر ایمان کے پیدا نہیں ہوتا۔اور ایک شخص امن میں نہیں ہوتا جب تک اس کو خوف بھی نہ ہو۔جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوتی ہیں۔امن والا ہوتا ہے۔میں اس کی تشریح کرتا ہوں۔یاد رکھو کہ دنیا میں اتفاق قائم رکھنے والی چیز یہ ہے کہ سامنے خطرناک میمن ہو۔آپس میں خواہ کتنی ہی دشمنی اور لڑائی ہو۔لیکن جونہی کہ مشترکہ دشمن سامنے آ جاتے۔تو لوگ اپنے عناد کو بھول کر متفق ہو جاتے ہیں۔غور کرو۔ہندو مسلمانوں میں کتنی لڑائی تھی، لیکن ہمارے ملک کے لوگوں کو یہ خیال ہوگیا کہ انگریز ہمارے دونوں کے خیر خواہ نہیں۔یا یہکہ انگر یز ہمارے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اور ہمارے ملک کا مال لیے جارہے ہیں۔اس خیال کی بنا پر دونوں قومیں جو د توں سے ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھے ہوتے تھیں۔ایک ہوگئیں۔انھوں نے اپنی دشمنیوں کو چھوڑ دیا اور وہ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آیا کرتے تھے اب ہر طرف سے آواز آنے لگ گئی کہ ہندو مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔اس اتفاق کی کیا وجہ ہے ہیں کہ ان کو ایک خوف پیدا ہوا۔اور وہ خوف انکے اتفاق کار خواہ وہ کیسا ہی ہو، موجب ہو گیا۔اسی طرح مثلاً دو شخص جنگل میں ہوں۔اور ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوں، لیکن اس حال میں کہ دونوں لڑرہے ہوں اگر شیر آجائے۔تو دونوں اپنی دشمنی کو چھوڑ کو شیر کے مقابلہ کے لیے یا اپنی حفاظت کے لیے تیار ہو جائیں گے تو خوف و خطر ہی امن پیدا کر دیتا ہے جب خوف آتا ہے۔تو لوگ اپنی لڑا تیاں بھول جاتے ہیں اور امن قائم ہو جاتا ہے۔ہمارے مفتی (محمد صادق صاحب ایک لطیفہ اپنے لیکچروں میں بیان کیا کرتے ہیں۔جو عیسائیت کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ عیسائیت کی تعلیم تو ایسی ہے جیسے لوگ سٹیشن پر ہوں اور گاڑی پر سوار ہو نا ہو۔ایسی حالت میں اگر کسی کے کچھ چوٹ آجائے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا کیونکہ گھبراہٹ ہوتی ہے۔اسی لیے