خطبات محمود (جلد 6) — Page 446
نام کے لحاظ سے متحد ہونگے۔اور انجیل کو مانے والے آپس میں۔وید کے پیرو آپس میں گویا اس ذریعہ سے بھی اتحاد ہوسکتا ہے۔قرآن کریم نے اعتصام بحبل اللہ کے لیے دونوں اصولوں کو لیا ہے حفظ ماتقدم بھی بتایا ہے۔اور یہ بھی بتایا ہے کہ اگرنا اتفاقی ان حفظ ماتقدم کے احکام پر عمل نہ کرنے سے یا تھوڑا عمل کرنے سے پیدا ہو جائے۔تو اس کے دفعیہ کا کیا علاج ہے۔اب میں سب سے پہلے اس اصل کو لیتا ہوں جس کے اختیار کرنے سے اختلاف پیدا ہی نہیں ہوتا اور پھر بتاؤں گا کہ اگر ہو جائے۔تو اسے کس طرح دُور کرنا چاہیئے۔پہلی بات جو قرآن کریم بیان کرتا ہے یہ ہے کہ انسان مان سے کہ اختلاف کبھی مٹ نہیں سکتا۔یہ ید پیلا گر ہے اختلاف سے بچنے کا۔بظاہر لوگ یہ سنکر حیران ہونگے۔کہ اتحاد کے قیام کے لیے یہ بات کیسے ضروری ہو سکتی ہے کہ یہ خیال کرلیا جائے کہ اختلاف نہیں مٹ سکتا، لیکن در حقیقت بات یہی ہے اور قرآن کریم نے اس پر بہت زور دیا ہے۔اور اس بات کو نہ ماننے ہی کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے۔قرآن کریم نے بار بار بیان فرمایا ہے کہ ہر چیز میں اختلاف نظر آتا ہے۔حتی کہ مومنوں میں بھی اختلاف ہے اور انبیاء میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔جیسا کہ فرمایا - تلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ البقرہ : ۲۵۴) کہ یہ رسول ہیں۔ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔اور فضیلت ایک الیسا امر ہے جو بغیر اختلاف کے حاصل ہی نہیں ہوتا۔فضیلت ایک چیز کو دوسری پر اسی وقت ہوگی جب ان میں اختلاف ہو گا۔پس اس طرح نبیوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ایک زیادہ کامل ہوتا ہے ایک کم۔میں نے ایک دفعہ لکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بزرگ اس حد کمال کو نہیں پہنچا جس پر پہنچ کر نبوت حاصل ہوتی ہے۔اس پر بہت ہنسی اُڑائی گئی کہ گویا مرزا صاحب سے پہلے سب لوگ ناقص الایمان تھے، لیکن نادانوں نے سمجھا۔اس میں نقص کا سوال نہیں۔بلکہ یہاں یہ بات ہے ، کہ باوجود کامل ہونے کے پھر بھی جواد پر کا درجہ ہے۔اس کے لیے ایک اور کمال ہونا چاہیئے مسئلہ فضیلت ہی کو لو حضرت موسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو فضیلت حاصل ہے۔مگر حضرت موسیٰ ناقص نبی نہ تھے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ کچھ نہ کچھ کی ضرور تھی۔تبھی نبی کریم جن میں یہ کمی نہ تھی حضرت موسی سے افضل ٹھرے۔یہ ایک نسبتی امر ہے۔اگر الوہیت کو مد نظر رکھا جائے۔تو رسول کریم ناقص تھے اور آپ میں کوئی بات بھی الوہیت کی نہ تھی۔اس طرح بجز خدا کی ذات کے نیکی کامل سے کامل میں بھی ہوتی ہے قرآن کریم فرماتا ہے۔بعض کو بعض پر فضیلت ہوتی ہے۔ایک بڑا ہوتا ہے اور ایک اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔