خطبات محمود (جلد 6) — Page 395
۳۹۵ دشمنوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں مگر اپنے بھائیوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے، لیکن جو شخص محض غیروں سے اچھا سلوک کرتا ہے۔وہ کامل اور مکمل نہیں۔اور کامل اور مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بھائیوں سے بھی اچھا سلوک ہو۔پس اپنی اصلاح کرو۔اور خدا کے فضلوں کو دیکھیں کہ کس طرح تمہارے لیے انکے دروازے کھولے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَئِن شَعَرُ تُم لَا زِيدَ تَكُم را براهیم : که اگرتم شکر ) کرو گے۔تو میں تمہیں اور بڑھاؤں گا۔یہ تمہارے لیے شکر کرنے کا موقع ہے۔جب حضور دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو فرمایا کہ میرا انشاء النہ ارادہ ہے کہ عصر کی نماز کے بعد بیاں سے لاہور جانے کے لیے روانہ ہو جاؤں میرے بعد انتظامی معاملات میں مولوی شیر علی صاحب امیر ہونگے۔آپ لوگ ان کی اطاعت کریں جن باتوں میں خلیفہ سے پوچھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کی اجازت کے بغیرنہ کریں اور امیر صلوۃ قاضی سید امیرحسین صاحب ہونگے۔جو میری جگہ چھوٹی مسجدمیں نماز پڑھایا کرینگے۔یہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ آپ جب باہر تشریف لے جاتے تو اپنی جگہ بعض دفعہ دو شخصیوں کو علیحدہ علیحدہ مقرر فرماتے اور بعض دفعہ ایک ہی شخص کے سپرد دونوں کام کر دیتے ہیں امیر منتظم مولوی خیر علی صاحب ہونگے۔اور امیر صلوۃ قاضی صاحب۔اب میں لاہور جاؤں گا۔اور پھر جب خدا تعالے چاہے گا دوستوں سے ملاقات ہو گی۔پس میری یہ نصیحت ہے کہ آپس میں محبت سے رہو۔سامنے بھی اور پیچھے بھی۔اور اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے فضلوں کے مستحق بناؤ۔دیکھو کہ باوجود اس کے کہ ہمارے عمل نہیں مگر پھر بھی وہ ہمارے اوپر اپنے فضلوں کی بارش کر رہا ہے۔ہم محتاج تھے۔اس کو ہماری ضرورت نہیں۔وہ ہمارا حاجت مند نہیں ہم اس کے حاجتمند ہیں اور اس کی ہر وقت مدد کے محتاج ہیں۔اور اس کی مدد کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔مگر وہ ہم سے کیسے سلوک کرتا ہے اور کس کس طرح ہم پر اپنے احسانوں کی بارش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں اپنا تقویٰ پیدا کرے اور ہمارے عیبوں کو ڈھاپنے۔آمین : الفضل ۴ مارچ ۹۲