خطبات محمود (جلد 6) — Page 389
سب سے کامیاب علاج ثابت ہوا ہے۔اور حسیں سے لاکھوں جانیں بچتی ہیں اور اب تک بچی ہیں پہنچے سے دنیا میں موجود تھی۔مگر دنیا اس سے غافل اور بے خبر تھی۔اسی طرح خدا کے فضل کے دروازے کھلتے ہیں۔مگر لوگ اس طرف پیٹھ کر لیتے ہیں۔خدا نے اس زمانہ میں مسیح موعود کے رنگ میں اپنا فضل عظیم ظاہر فرمایا ہے۔اور اس شکل میں اپنے انعام کا دروازہ کھولا ہے۔مگر اس دروازے کی طرف احمدیوں نے قدم بڑھایا۔اور دوسروں نے اس کی بہنگ کی مگر میں دیکھتا ہوں کہ احمدیوں میں بھی ایسے ہیں جنہوں نے اس انعام کو قبول تو کیا۔مگر اس کی پوری پوری قدرنہ کی اور پورا فائدہ نہ اٹھایا۔اورت ہی کم ہیں جو دعاؤں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔دُعا ایک ہتھیار ہے۔جو ہر ایک مصیبت کو راستہ ہے ہٹا دیتا ہے بعض لوگ رسما کہ دیتے ہیں کہ میرے لیے دعا کرو۔مگر وہ دعا کی حقیقی قوت سے فاضل ہیں۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمیں مانگنے کی ضرورت نہیں۔لیکن یہ غلط ہے کیونکہ کوئی انسان ایسا نہیں جو اللہ کا محتاج نہیں یعنی تو صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔پس یاد رکھو کہ انسان محتاج ہے۔وہ غلطی کرتا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے کوئی ضرورت نہیں اس کی عقل کمزور ہے۔اور اتنی کمزور ہے کہ اسے اپنی احتیاج کا بھی علم نہیں۔پس کوئی انسان نہیں جس کو خدا کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں، لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کہ اگر اپنے لیے نہیں، تو جامات کی ترقی کے لیے اور ان بھائیوں کے لیے جو دین کی خدمتوں کے لیے وطنوں سے باہر ہیں دعائیں کرو۔خدا تعالیٰ تمہارے کام بھی درست کریگا۔اللہ تعالٰی ہم سب کو اس گر سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق دے اور ہماری توجہ کو اپنی طرف پھیر ہے۔وہی ہما را سہارا ہو۔ہمارے دل اس سے راضی ہوں اور اس کی رضا ہمارے ساتھ ہو۔آمین : الفضل ۱۲ فروری له ) د