خطبات محمود (جلد 6) — Page 386
WAY اگر ہماری جماعت کے لوگ اس گر کو اچھی طرح سمجھ لیں اور یہ قطعی فیصلہ کر لیں، کہ اپنے فوائد کو جماعت کے فوائد پر قربان کر دینگے۔وہ فیصلہ کر لیں کہ اگر ان کا مال جاتا ہے تو جاتے مگر جماعت کو کوئی فائدہ ہو۔اگر ان کی جان جاتی ہے تو جاتے۔مگر جماعت کو فائدہ ہو۔اگر ان کی جائیداد جاتی ہے تو جائے مگر جماعت کو فائدہ ہو۔اگر یہ بات ہو جائے اور جماعت کا ہر ایک فرد اپنے فوائد پر جماعت کے فوائد کو مقدم کرے۔تو جس طرح سات سو صحابہ نے کہا کہ ہم تباہ نہیں ہوسکتے۔اسی طرح ہم تو خدا کے فضل سے لاکھوں ہیں۔ہمیں خدا کے فضل سے کوئی طاقت تباہ نہیں کر سکتی۔اور اگر یہ بات ہو جاتے توئیں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ترقی کا قدم بہت تیزی سے اٹھے اور ہم بہت جلد دنیا میں پھیل جاتیں مگر افسوس ہے کہ ابھی ہماری جماعت میں اس بات کی کمی ہے۔میری چونکہ آج طبیعت اچھی نہیں جب صحت ہوگی میں انشاء اللہ اس پر تفصیل سے بیان کروں گا اور بتاؤں گا کہ کس طرح ذاتی خواند و اغراض و احساسات کو جماعت کے فوائد میں آسانی سے قربان کردنیا چاہیئے۔الفضل ۹ فروری ته ) اند