خطبات محمود (جلد 6) — Page 381
HAI پادری نے کہا کہ تم قادیانی ہو۔اس نے کہا۔میں تو نہیں جانتا کہ قادیان کیا ہے۔لیکن یہ میرے سواللہ ہیں ان کا جواب دو۔اس نے کہا، کہ تم سے بات کرنے کی نہیں اجازت نہیں۔تو چھوٹے چھوٹے احمدی جن کی تعلیم ابھی ناقص ہوتی ہے۔ان سے بھی عیسائی بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ایک دفعہ ایک احمدی جو چھٹی ساتویں جماعت تک پڑھا ہوا تھا۔رنگون میں بغرض تلاش معاش گیا۔ایک دن سیر کرتا ہوا ایک جگہ پہنچا۔وہاں سینکڑوں کا مجمع تھا۔اور ایک پادری صاحب بررسی زور سے تقریر کر رہے تھے۔جب وہ تقریر کر چکے۔تو اس نے اجازت چاہی۔چونکہ یہ لباس اور طرز سے سادہ معلوم ہوتا تھا۔پادری صاحب نے خیال کیا کہ جب یہ سوال کر کے شرمندہ ہو گا تو میرا لوگوں پر خوب اثر پڑے گا۔اس لیے انہوں نے سوال کی اجازت دیدی ، مگر جب اس احمدی نے اعتراض کئے۔تو پادری صاحب گھبرا گئے۔جواب تو انہوں نے دیتے، مگر جب وہ احمدی جواب الجواب دینے لگا تو وہ کہنے لگے۔آج تو وقت نہیں رہا۔کل سی۔آخر ان سوالوں سے گھبرا کر انہوں نے وہ سلسلہ ہی بند کر دیا۔یہ تو چھوٹے احمدیوں کے مقابلہ کا حال ہے۔جو زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ان سے تو واقعی پادریوں کی روح کا نپتی ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے مفتی محمد صادق صاحب کو راولپنڈی کے علاقہ میں جہاں ایک مشہور دنگل ہوتا تھا۔اور عیسائیوں نے بھی جیسے لگاتے ہوئے تھے بھیجا۔جونہی کہ مفتی صاحب پہنچے۔انہوں نے اپنے خیمے وغیرہ اٹھا لیے اور وہاں سے چلے گئے۔غرض احمدیت کے مقابلہ میں عیسائیت بالکل نہیں ٹھر سکتی۔عیسائیت اور احمدیت کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسی آگ اور پانی کی۔آگ خواہ کتنی ہی تیز ہو۔پانی کے سامنے نہیں ٹھر سکتی ہیں عیسائیت آگ ہے اور احمدیت پائی۔عیسائیت ظلمت ہے اور احمدیت روشنی۔اب سورج چڑھ گیا۔جہاں اس کی روشنی پہنچے گی۔عیسائیت کی ظلمت وہاں نہیں ٹھہر سکتی خواہ کتنی ہی دیواریں بند کی جائیں۔یہ واقعہ ہے کہ جہاں احمدیت پہنچی۔وہاں سے عیسائیت بھاگنا شروع ہو جاتی ہے۔دوسرے مسلمان جو غیر احمدی ہیں۔ان کا بھی فرض ہے کہ ادھر متوجہ ہوں مگران کے پاس وہ ہتھیار نہیں جو ہمارے پاس ہیں۔اس لیے وہ عیسائیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لیے عراق محمد کی جو حالت ہے اس کی درستی کے لیے اور وہاں کے غیر احمدی مسلمانوں کو عیسائیت کی آگ سے بچانے کے لیے نہیں وہاں آدمی بھیجنے چاہئیں مجھے اس تار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے غالباً گورنمنٹ سے اجازت لے لی ہے۔پس یہ ایک نیا میدان نکلا ہے۔اگر چہ وہاں کے چند سو احمدیوں نے ہمت کر کے ڈیڑھ ہزار روپیہ جمع کر لیا ہے۔مگر یہ ایک عارضی بات ہے۔کیونکہ وہ لوگ ملازمت پر گئے ہوتے ہیں۔اور اپنی