خطبات محمود (جلد 6) — Page 302
تم خدا کے دین ہیں تو کامیاب ہوگئے بلکہ اسلام میں اس وقت نیکی کی راہ پر قدم زدن قرار دیا جب تم خدا کے دوست ہو گئے۔اسی طرح اسلام یہ نہیں کہے گا کہ تم لوگوں کے دشمن نہ ہو کیونکہ یہ تو ایک ادنی درجہ کی بات ہے۔اصل یہ ہے کہ تم لوگوں کے دوست ہو بہت لوگ خوش ہیں کہ وہ کسی کے دشمن نہیں۔حالانکہ شریف کے دل میں کینہ نہیں ہوتا۔یہ تو ایسا ہی فخر ہے۔کہ ایک انسان کسے میں انسان ہوں، حالا نکہ فخر کی بات یہ ہے کہ انسانوں میں سے اعلیٰ درجہ کا انسان ہو۔اگر کوئی شخص گدھوں اور کتوں میں کھڑا ہو کر فخر کرے کہ میں انسان ہوں۔تو یہ اس کا فخر بجا ہوگا ، لیکن ہوگا اس کے پاگل پن کی دیل کیونکہ گدھے اور کتے نہیں جانتے کہ فرق مراتب کیا ہے۔ہاں انسانوں میں انسان کا دعویٰ فخر البتہ ایک بات ہوگی۔سوائے اخلاقی لحاظ کے کہ بعض حالتوں میں انسان گدھے کے مشابہ ہوتا ہے بعض میں کتے کے ، لیکن جسمانی لحاظ سے یہ حالت نہیں ہوتی۔اور ایک انسان جسمانی حالت میں تنزل کر کے انسان سے گدھا پاکستا نہیں بن سکتا۔پس عدادت ایک ایسا درجہ ہے کہ اس سے انسان اتر ہی نہیں سکتا۔پس جو شخص اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کو کسی سے عداوت نہیں۔اس کی یہ خوشی اور فخر ایسا ہی ہے۔جو کوئی انسان تھے کہ میں گدھا نہیں۔حالانکہ فخر تو اس پر ہونا چاہیئے کہ انسانوں میں سے اعلیٰ انسان ہے اور پھر نخر بھی وہ فخر جو کمتر والا نہ ہو۔پس اگر انسان کو قابل فخر کوئی بات بناتی ہے۔تو وہ یمنی اور عداوت کا نہ ہونا نہیں۔بلکہ وہ دوستی اور محبت و اخلاص اور پیالہ ہیں۔یہ خوبی جائزہ فخر ثابت کرتی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسانوں سے محبت و اخلاص کے تعلقات رکھتا ہے۔تعلقات کے تین مدارج ہیں ان میں ادنی اور ذلت و رسوائی کا درجہ شمنی کا ہے۔وہ یمنی جو خدا کے لیے نہ ہو۔اور جو دشمنی خدا کے لیے ہو۔وہ دراصل دشمنی نہیں۔محبت ہے۔کیونکہ خدا کسی کا دشمن نہیں۔اگر خدا کے لیے کسی سے بغض ہے تو وہ بعض و دشمنی نہیں۔بلکہ اصلاح ہے اور شخص مصلح ہے۔ہاں جب اپنے لیے یا اپنے عزیزوں۔بیوی بچوں۔دوستوں کے لیے ہے ؟ تو واقعی بغض ہے۔جو بد ترین ذلت کا درجہ ہے۔خدا کے لیے جو بغیض ہے نعت کے لحاظ سے ہم اسے بعض اور یمنی ہی کہیں گے۔ورنہ درحقیقت وہ اصلاح ہے۔اس درجہ سے اوپر کا درجہ یہ ہے کہ انسان کو نہ کسی سے دشمنی ہو۔اور نہکسی سے دوستی جیسا کہ ریل میں دو آدمی بیٹھتے ہیں۔ایک ایک کھڑکی میں دوسرا دوسری میں کہ نہ ان میں تعلقات دوستی ہوتے