خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 268

YYA مدد کے لیے بلانے کی بجائے انہیں پتھر مارنا شروع کر دے اس کا نتیجہ کیا ہوگا یہی کہ ڈاکو باہر سے اس پر حملہ آور ہوں گے اور ہمسائے اندر سے اس کو نقصان پہنچائیں گے پس جو شخص کسی سے لڑائی کی وجہ سے نماز با جماعت پڑھنا چھوڑتا ہے۔وہ یقینی طور پر اپنی تباہی کا موجب بنتا ہے۔ایک نادان کا لطیفہ مشہور ہے۔مگر میرے نزدیک نماز چھوڑنے والا اس سے بھی زیادہ نادان اور بیوقوف ہے۔کہتے ہیں کیسی سے کوئی شخص برتن مانگ کرے گیا تھا کچھ دن تک جو اس نے اپس نہ دیا تو ایک دن وہ خود لینے گیا۔اور جا کر دیکھا کہ وہ اس کے برتن میں سالن ڈال کر کھا رہا ہے۔یہ دیکھ کر کہنے لگا کہ تو نے میرے برتن میں سالن ڈال کر کھایا ہے۔میں تیرے برتن میں پاخانہ ڈالکر کھاؤنگا۔تو یہ سزا دینے کا عجیب طریق ہے کہ چونکہ فلاں سے میری لڑائی ہے۔اس لیے میں نے نماز باجماعت پڑھنا چھوڑ دی ہے۔جو شخص اس طرح کرتا ہے۔اس نے اپنے دشمن کو اپنے اوپر خود غالب کرلیا کیونکہ اس کے دشمن نے ایک تو اسے اپنے پاس سے دور کر دیا اور دوسرے خدا سے بھی دور کر دیا پس اس طرح اُس نے اپنے دشمن کو نیچا نہیں دکھایا بلکہ اس کا درجہ اونچا کر دیا ہے۔اس کو نقصان نہیں پہنچایا ، بلکہ خود نقصان اُٹھایا ہے۔یہ سمت جہالت اور نادانی ہے۔اس طرح اُس نے اپنے دشمن کو نیچا نہیں دکھایا بلکہ خود نقصان اُٹھایا ہے۔یہ سخت جہالت اور نادانی ہے۔کیونکہ کسی سے دشمنی کی وجہ سے نماز چھوڑنے کا ہرگز حکم ہیں۔نماز باجماعت ادا کرنے کا خدا کا حکم ہے محمد صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے۔اور اس شریعت کا حکم ہے جس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی۔اور اس شریعت کا حکم ہے جس کا ایک شعشہ بھی بدل نہیں سکتا۔ہیں یہ مت سمجھو کہ احمدی کہلانے سے خدا کے حکموں کو توڑنے کی اجازت ہو گئی ہے۔بلکہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ فرض ہو گیا۔کہ ہر ایک حکم پر پورے طور پر عمل کرو۔اس لیے عقل اور دانائی سے کام لو۔اور خدا کے حکموں کو مت توڑو کیونکہ اب تم نے حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پردین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے، اور شریعیت کو اچھی طرح سمجھا ہے۔اب اگر اس کے خلاف کرو گے۔تو دوسروں کی نسبت خدا کے غضب کے زیادہ مستوجب بنو گے۔خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ شریعت کے تمام احکام کی تم قدر کرو۔اور ان پرعمل پیرا ہو۔آمین۔الفضل ۲۹ جولائی شواه)