خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 260

کرتا ہے پیس بولنے والا وہ نہیں جبکو" مرزا کہتے ہیں۔بلکہ بولنے والا وہ ہے جسکو خُدا کہتے ہیں نادان انسان بڑے افسر کے چپڑاسی کو دیکھتے ہیں۔اور اسے حقیر سمجھکر اس کے لائے ہوئے احکام کی پروا نہیں کرتے۔در حقیقت وہ احکام معزز ہوا کرتے ہیں جو وہ لیکر آتا ہے۔اس لیے اس کو حقیر نہیں کہا جاسکتا کیونکہ بادشاہ کے احکام میں چھوٹے بڑے کا فرق نہیں ہوتا۔اس لیے چپڑاسی کی طرف نہیں دیکھنا چاہتے۔بلکہ اس کی طرف دیکھنا چاہتے جس کے حکم سے وہ آتا ہے۔اور جس کاحکم کرتا ہے تو خداتعالی کا برگزیدہ آیا اورخدا کے احکام لایا۔مگر دنیا نے اس کی مخالفت کی۔اور ایسی مخالفت کی کہ اس کی جان تک لینے سے دریغ نہ کیا۔اس کانتیجہ کیا ہوا ؟ دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس کے انکار کے بعد دبائیں آئیں۔ابتلاء آتے لوگ دُکھوں میں گرفتار ہوئے جنگوں میں ڈالے گئے۔زلزلوں سے زیروز بر کئے گئے طوفانوں سے برباد کئے گئے۔قحط سے ہلاکت میں ڈالے گئے کہیں قحط بارش کی قلت سے آتے تو کہیں کثرت بارش سے آتے۔اور اگر ایک جگہ کے لوگ ایک ایک قطرہ کو ترسنے لگے۔تو دوسری جگہ اس کثرت سے بارش ہوئی کہ لوگوں کے کھیت کھڑے کے کھڑے سڑ گئے۔پہلے قحط کبھی بارش کے نہ ہونے سے پڑتا۔اور کبھی زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے فصلوں کے گل سڑ جانے سے پڑتا لیکن اس زمانہ میں ہی دونوں باتیں ایک وقت میں جمع ہو گئی ہیں۔اور ان کے علاوہ ہر رنگ میں بلائیں آگہ ہی ہیں۔اور اس کثرت سے آ رہی ہیں کہ کوئی چین سے زندگی بسر نیں کر رہا۔لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی زندگی ان پر تلخ بوری ہے۔اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی زندگی موت سے بدتر ہے۔مگر تعجب ہے کہ باوجود ایسی حالت کے پھر بھی وہ اس کے اس علاج کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو خدا نے ان ہلاکتوں سے بچانے کے لیے مقرر کیا ہے۔یہ مانتے ہیں کہ دنیا میں خدا کا عذاب نازل ہے جیس میں ہم گھرے ہوتے ہیں مگر اس پر غور نہیں کرتے کہ یہ کیوں آیا ہے۔پچھلے ہفتے سیلون سے جو خطہ آیا ہے اس میں وہاں کے قحط کے حالات لکھے ہیں۔جو نہایت ہی درد ناک طور پر نہایت تفصیل سے لکھے ہیں۔میں نے جب اس کا ابتدائی حصہ پڑھا تو خیال کیا کہ روپیہ کی مدد چاہتے ہونگے لیکن جس وقت میں اخیر پر پہنچا۔تو ایک ایسا فقرہ پڑھا جس سے معلوم ہو گیا کہ وہاں کے لوگوں کی حالت بہت ہی دردناک ہو گئی ہے وہ فقرہ یہ ہے کہ ہماری حالت نہایت ہی دردناک ہے۔اور خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں چند بوریاں آٹے کی بھجوائی جاتیں۔ہم پر یوسف کے سے سال گزر رہے۔ہم مدد چاہتے ہیں، لیکن روپیہ کی صورت میں نہیں بلکہ غلہ کی صورت میں کیونکہ یہاں روپیہ دیگر بھی غلہ نہیں ملتا۔یہ فقرہ تھا کہ جس نے اس خطر ناک حال کو مجھ پر ظاہر کر دیا اور معلوم ہوا کہ وہ کن حالات