خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 248

47 خدا تعالی کی رحمت مایوسی کفر ہے د فرموده ۲۷ رجون ۱۹۱۹ به حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شریفہ لِبَنِي اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا يُسُوا مِنْ رَوحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَانِيسُ مِنْ زَوْحِ اللَّهِ إِلَّا القوم الكفرُونَ (یوسف: ۸۸) تلاوت کر کے فرمایا :- اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان اپنے بندے پر جس قدر ہوتے ہیں۔ان کا شمار کرناکسی انسان کی طاقت کے اندر نہیں۔اِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا خدا کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں کرسکتا کیونکردہ ان گنت ہوتی ہیں۔اور ان کا ذہن میں لانا بھی مشکل ہوتا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کیا گیا، انعام اس کے اپنے بندے پر ہیں۔ملائکہ کو بھی ان بہت سے انعامات کا علم نہیں ہوتا جو اللہ اپنے بندے پر کرتا ہے۔حتی کہ بندہ جو بیشمار انعامات کا مور د ہوتا ہے۔وہ خود بھی نہیں جانتا۔ہزاروں امور بندے کے سامنے آتے ہیں۔ان پر وہ حیرت کا اظہار کرتا ہے جب کوئی انسان مصیبت میں پڑتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نجات دیتا ہے۔تو وہ خُدا کے اس احسان کا شکر یہ ادا کرتا ہے لیکن لاکھوں دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی ہلاکت اور بربادی کے سامان اس کی نظر سے پوشیدہ پیدا ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ پر دہ خفاہ میں ہی ان کو دور کر دیتا ہے اور اس کو پتہ بھی نہیں لگتا۔بیسیوں دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جہاں انسان بیٹھنے لگتا ہے۔اس کے نیچے سانپ یا بچھو ہوتا ہے اور وہ اس کو دیکھ کر پرے موٹ جاتا اور اس کے ضرر سے بھی جاتا ہے جس پر وہ اگر اس کے دل میں خدا کا خوف اور عظمت ہوتی ہے تو وہ شکر گذار ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ایس ضرر سے بچالیا۔مگر جب کبھی وہ رات کو زمین پر سو رہا ہوتا ہے۔تو بار ہا اس کے پاس سے سانپ اور قسم قسم کے موذی جانور گذر جاتے ہیں اوراللہ تعالیٰ ان کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیتا۔اور ان کے حملے سے بچا لیتا ہے۔بہت دفعہ انسان بیمار ہوتا ہے اور اس کی حالت نہایت خطرناک ہو جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اس کو شفا دید یتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا نے