خطبات محمود (جلد 6) — Page 230
44۔دُعاؤں کے دن فرموده بر جوان شاشاته تشتد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آیت وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرْب أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالِى وَليَومِنُوا لى تَعَلَّهُ يَرْشُدُونه تلاوت فرما کر فرمایا :- رسورة البقرة : ١٨٧ ) دُعا ایک ایسا حربہ اسلام نے مسلمانوں کو دیا ہے کہ اس کے آگے کوئی قوم و مذہب نہیں ٹھہر سکتا۔وجہ یہ ہے کہ ہر ایک بات کا توڑ ہو سکتا ہے، مگر دُعا کا توڑ نہیں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے ہمسایہ میں ایک مالدار شخص رہتا تھا جس کو بادشاہ کے دربار میں بڑا رسوخ حاصل تھا۔اس کے ہاں شب و روز گانا بجانا اور شراب نوشی ہوتی رہتی تھی۔جس سے ہمسایوں کو نہ دن آرام تھا نہ رات جب ہمسایوں کی یہ تکلیف اُن بزرگ نے دیکھی۔تو وہ اس امیر کے پاس گئے اور کہا کہ ہر مذہب و ملت کا شخص اپنے ہمسایوں کے آرام کا خیال رکھتا ہے۔تم تومسلمان ہو تمہیں بہت زیادہ ان کے آرام کا خیال چاہیئے۔اس کے جواب میں اس شخص نے کہا میں کیا کروں اگر ان کو تکلیف ہوتی ہے تو ہوا کرے میں مختار ہوں، جس طرح چاہوں کروں۔کیونکہ یہ میرا گھر ہے۔انھوں نے اُسے بہت سمجھایا ، مگر جب وہ نہ ہی سمجھا تو کها کہ اگر تم اسی طرح تکلیف دیتے رہو گے تو وہ لوگ تمہارا مقابلہ کریں گے۔اس نے کہا وہ میرا کیا مقابلہ کریں گے۔میں بادشاہ کا مقرب ہوں۔شاہی فوج کا ایک دستہ اپنے مکان کی حفاظت کے لیے بلوا لونگا۔پھر دیکھونگا کہ یہ لوگ میرا کیا بگاڑ لیتے ہیں۔وہ بزرگ اس کے جواب پر مسکراتے۔اور کہا کہ ان کا مقابلہ ان ظاہری سامانوں سے نہیں ہو گا۔بلکہ ان کا مقابلہ سہام اللیل سے ہو گا۔یعنی وہ تیر جو رات کو چلائے جاتے ہیں۔دیدہ عربی زبان کا محاورہ ہے۔کہ دعا کو عربی میں سہام الہیل سے تعبیر کرتے ہیں۔کیونکہ اندھیرے میں کی ہوئی دکھا ئیں اس صفائی سے نشانے پر بیٹھتی ہیں کہ دن میں چلنے والے تیر بھی انکا