خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 2

ہمیں اس طرف متوجہ نہیں کرتیں۔کہ در حقیقت خدا تعالے نے ہمارے لیے بہت بڑی بڑی نعمتیں مقدر کر رکھی ہیں۔اور جو کچھ ہمیں حاصل ہو رہا ہے۔وہ ایک طعمہ کی طرح ہے، جو کھونٹی کے آگے مچھلی پکڑنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔یا یہ ایک ایسا ہی انعام ہے۔جیسا کہ ماں باپ بچہ کو پڑھنے کے لیے بھیجتے وقت پیسہ یا مٹھائی دے دیا کرتے ہیں جس طرح وہ پیسہ یا مٹھائی بچہ کے لیے در حقیقت نشان ہوتا ہے اس بات کا کہ اگر کم تعلیم حاصل کرو گے تو بہت زیادہ انعام اور آرام حاصل کرو گے اور یہ چیزیں ان العاموں کا حصہ نہیں ہوتیں جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔بلکہ وہ ان کے حاصل کرنے کے لیے تحریص دلانے اور برانگیختہ کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں۔اسی طرح اس وقت ہم پر جو خدا تعالیٰ کے فضل ہو رہے ہیں وہ آنے والے فضلوں کا حصہ نہیں بلکہ انکے حصول کے لیے برانگیختہ کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔اب تم خود سوچ لو کہ جہاں یہ ذریعہ ایسا عالی شان ہے۔وہاں اصل انعام کس رتبہ اور پایہ کے ہونگے جو کچھ نسبت ان چند پیسوں یا مٹھائی کی ڈلیوں کو ان سکھوں اور انعاموں سے ہوتی ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد حاصل ہوتے ہیں۔وہی موجودہ فضلوں کو آئندہ ہونے والے فضلوں پر قیاس کر لو۔بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ جس طرح وہ قلم یا پنسل یا انب یا مٹھاتی جو ایک اُستاد یا باپ لڑکے کو اس لیے دیتا ہے کہ تعلیم حاصل کرے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد کے فوائد سے کچھ بھی نسبت نہیں رکھتیں۔اسی طرح ہم پر جو خدا کے فضل اور انعام ہو رہے ہیں وہ بھی آئندہ ملنے والے انعام کے مقابلہ میں مولی ہیں ہیں اُن ملنے والے انعاموں کو حاصل کرنے کے لیے ہماری جماعت کو چاہیے کہ موجودہ انعامات کی قدر کرے۔دنیا میں اسلام کے پھیلانے اور ہدایت کے پہنچانے کے لیے ہماری کیا کوششیں ہیں مگران کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کو دیکھو کہ پہلے اور ہرگھڑی ہمارا قدم آگے ہی آگے پڑ رہا ہے۔ہمارے راستہ میں مصیبتیں اور مشکلات تو ایسی ہیں کہ بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے ہٹنا چاہیتے اور بوجھ اتنے ہیں کہ بجائے کھڑا ہونے کے بیٹھ جانا چاہیتے مگر جب ایک سال گزرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہم کہاں تھے اور اب کہاں پہنچ گئے ہیں۔گو ہم سو رہے تھے اپنی کوششوں میں بہت سست بلکہ غافل تھے۔مگر کسی طاقت ور بہتی نے ہمیں پہلے کی نسبت بہت آگے بڑھا دیا ہے۔ہماری مخالفت کا تو یہ حال ہے کہ جس طرح دریا کی ایک رو چلتی ہے۔اور اوپر کی طرف نہیں جانے دیتی۔اسی طرح بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ زور کے ساتھ ہمارے مقابلہ میں چل رہی ہے۔کوئی انسان ایک دریا کی رو کے مقابلہ میں نہیں چل سکتا، مگر