خطبات محمود (جلد 6) — Page 160
کرے۔لوگ اس وقت تک پیچھے مذہب سے نفرت کرتے ہیں۔رسولوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی بے قدری کرتے ہیں۔جب تک انہیں علم اور یقین نہیں ہوتا۔اگر انھیں معلوم ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی ارفع و اعلیٰ ہے۔اس کا فضل کس قدر وسیع ہے۔اس کے ساتھ وابستگی کیسی دائتھی ہے تو ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ سے بیگانہ رہیں۔اسی طرح اگر انھیں یہ معلوم ہو جاتے کہ فلاں خُدا کا رسول ہے اور خدا نے اس کو بھیجا ہے، تو ممکن نہیں کہ نہ مانیں۔پھر جس پر یہ روشن ہو جاتے کہ یہ خلا کا الہام ہے اور اس پر چلنے سے ہمارا ہی فائدہ ہے۔تو ممکن نہیں کہ بے قدری کریں۔یہ ہو سکتا ہے کہکسی کو دھوکہ لگے اور مجھے کہ میں ایمان رکھتا ہوں۔مگر نہ ہو۔جیسے کسی کے متعلق کہنے کو تو کہدیتے ہیں کہ اس سے محبت ہے مگر دراصل نہیں ہوتی اور وقت پر حقیقت گھل جاتی ہے۔اسی طرح ایک شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں ایمان ہے مگر ایمان نہیں ہوتا، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایمان ہو اور عمل صالح نہ ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو واقعہ میں ایمان لاتا ہے۔وہ عمل صالح کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔لیکن اس سورۃ میں خدا تعالیٰ ایمان لانے کے بعد عمل صالح کرنے کی بھی ہدایت فرماتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالے کا کلام تو زوائد سے پاک ہوتا ہے اس لیے جب یہ فرما دیا گیا کہ امنوا - تو عمل صالح کرنا اس میں آگیا۔پھر عملوا الصلحت ساتھ فرمانے کی کیا ضرورت تھی۔جب ایمان لانے والا انسان عمل صالح کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور ایمان کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اعمال صالح کئے جائیں تو کیوں امنوا ہی نہ رکھا۔اس میں ایک حکمت ہے۔در حقیقت جب امنوا کا فقرہ علیحدہ اور عملوا الصالحات کا علیحدہ ہو تو اس کا وہی مفہوم ہوتا ہے جو عام لوگ سمجھتے ہیں مگر جب یہ دونوں فقرے ملتے ہیں تو ایک اور معنی پیدا ہوتے ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ گو ایمان اور یقین کامل کے نتیجہ میں اعمالِ صالح پیدا ہوتے ہیں اور ایمان وہی ایمان ہوتا ہے جسے انسان یقینی سمجھتا ہے اور پھر اس کے مطابق عمل کرتا ہے مگر بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ چونکہ انسان کی نیت اور موقع شناسی میں نقص ہوتا ہے۔اس لیے وہ کامیابی کے حصول کا حقیقی ذریعہ نہیں ہوتا۔گویا اس کا عمل عمل صالح نہیں ہوتا۔اس لیے ضائع ہو جاتا ہے۔تو ایمان سے یہ تو پتہ لگتا ہے کہ جو لاتا ہے۔وہ عمل کرتا ہے۔مگر اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ وہ عمل ان ذرائع پر کاربند ہو کر کیا جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا نتیجہ نکلنے کے لیے مقرر کئے جاتے ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت لوگ ایمان لاتے ہیں اور پھر عمل کرتے ہیں۔نماز پڑھتے ہیں۔روزے رکھتے ہیں۔حج کرتے ہیں۔مگر دنیا میں ذلیل اور خوار ہی رہتے ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ان ذرائع کی طرف