خطبات محمود (جلد 6) — Page 137
۱۳۷ تقریر کی طرف توجہ نہیں کرینگے۔خواہ وہ اتنے عرصہمیں بکواس ہی کرتا رہا ہو۔یا اس نے اس عرص میں قرآن کریم کے معارف کے دریا بہا دیتے ہوں۔حضرت مسیح موجود ایک خطیب کا ذکر سناتے تھے کہ وہ لیکچر کے لیے کھڑا ہوا۔اس کا مضمون رقت وہ والا تھا۔ایک شخص آیا اور کھڑا ہو گیا۔اس کے ہاتھ میں تنگڑی زمینداروں کا وہ سر شاخہ آلہ جس سے وہ بھوسہ وغیرہ درست کیا کرتے ہیں، تھی جتنے حاضرین تھے ان پر تو اس تقریر کا کچھ اثر نہ ہوا، لیکن زمیندار تھوڑی ہی دیر بعد رونے لگ گیا۔واعظ کی جو شامت آئی۔اور اس کے دل میں ریا پیدا ہوئی تو اس نے خیال کیا کہ یہ میرے وعظ سے متاثر ہوا ہے۔اس نے لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ دکھی انسانوں کے قلوب بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو گھنٹوں سے میرا واعظ سن رہے ہیں لیکن ان پر مطلق اثر نہیں ہوا۔مگر یہ ایک اللہ کا بندہ ہے کہ اس پر فوراً اثر ہو گیا ہے۔اور یہ روپڑا ہے۔پھر اس نے لوگوں کو بتاتے کے لیے اس سے پوچھا میاں کس بات نے تم پر اثر کیا کہ تم رو پڑے۔اس نے کہا کل اسی طرح میری بھینس کا بچہ اڑا اڑا کے مرگیا تھا۔جب میں نے آپ کی آواز سنی تو وہ یاد آگیا۔اورمیں رو پڑا یہ سنکر خطیب بہت شرمندہ ہوا۔پھر بہت لوگ ہوتے ہیں جو خطبوں وغیرہ میں اس نیت سے بیٹھتے اور سنتے ہیں کہ دیکھیں خطیب نے اردو کی کیا کیا غلطی کی۔یا پنجابی میں بیان ہے۔تو پنجابی ٹھیٹھ ہے یا نہیں۔یا دیکھتے ہیں فلاں شخص کے کھڑے ہونے یا ہاتھ مارنے یا سر ہلانے کا کیا انداز ہے اور بولتے ہوئے کیا کیا حرکات کرتا ہے اور جو وہ مضمون بیان کرتا ہے۔اس کی طرف ہرگز ہرگزنہ ان کا دھیان نہیں ہوتا۔یہ کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ وہ عادت کے طور پر وعظ یا لیکچر سنتے ہیں ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ مضمون کیا ہے۔بلکہ وہ اپنی عادت سے اسی طرح مجبور ہوتے ہیں جس طرح افیونی کو افیون کی اور جس طرح کہ افیونی کو اس سے مطلب نہیں ہوتا کہ میں افیون کیوں کھاتا ہوں۔اسی طرح ان کو بھی پیتر نہیں ہوتا کہ ہم تقریر کیوں سنتے ہیں۔پس جس طرح انیسونی کی عادت افیون کھانا ہوتی ہے۔اسی طرح ان کی عادت تقریر سنا ہوتی ہے اور جس طرح وہ ایک مصیبت ہوتی ہے۔اسی طرح یہ عادت بھی ایک مصیبت ہوتی ہے۔کیونکہ جس طرح افیونی کے حواس مختل ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں کے حواس بھی مختل ہو جاتے ہیں۔در اصل کلام مختصر نہایت اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ رسول کریم نے فرمایا عَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ خَفِيفَتَانِ عَلى اللِسَانِ - تَقِيْلَتَانِه فِى المِيزَانِ۔