خطبات محمود (جلد 6) — Page 124
موجب کیا ہوا ہے۔یہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ بلا سبب اور بلا وجہ تو آ نہیں رہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ ٹھٹھی نہیں کرتا۔اور نہ یہ اندھا راج ہے کہ " کے سیر بھاجی سکے سیر کھا جا " کا حساب ہو کہتے ہیں کوئی بیوقوف را جا تھا اس نے اپنے مدود ریاست میں حکم جاری کر رکھا تھا کہ ہر ایک چیز کے سیر ہے۔ایک چیلے نے اپنے گرد سے کہا کہ باواجی اس ریاست میں چلو وہاں بڑا مزا ہے۔ہر ایک چیز کے سیر بکتی ہے ہم خوب سیر ہو کر مٹھائی وغیرہ کھایا کریں گے۔گرو نے کہا وہاں نہیں جانا چاہتے کیونکہ اگر گئے تو ہم پر ضرور کوئی نہ کوئی مصیبت آئیگی، لیکن چیلا اصرار کرکے لے گیا اور کچھ دن تک خوب مٹھائیاں کھائیں اور خوب موٹے تازے ہو گئے۔آخر اتفاق ایسا ہوا کہ ایک شخص نے کسی کو قتل کر دیا۔قاتل کو گرفتار کر کے پانی کا حکم دیا گیا۔جب اسے پھانسی دی جانے لگی تو جلا د نے کہا۔چونکہ اس کی گردن پتیلی ہے۔اس لیے پھانسی کی رسی اس کے گلے میں پوری نہیں آتی۔را جانے کہا اس کی بجائے کسی موٹی گردن والے کو تلاشش کر کے پھانسی دیدو آخر کسی کو تو پھانسی دینا ہی چاہیئے۔اس پر گر و صاحب جن کی گردن موٹی تھی۔پکڑ کر پھانسی دیدیئے گئے۔یہ ایک ظلم وجود کی کہاوت مشہور ہے۔اور ممکن ہے کسی نادان اور جہالت کے پتلے نے ایسا کیا بھی ہو لیکن خدا کی نسبت اس قسم کا خیال بھی دل میں نہیں لایا جاسکتا وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی رحیم وکریم ہے۔اور کسی پر ایک ذرہ بھر ظلم روا نہیں رکھتا۔وہ ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی بات کا پورا پورا علم رکھتا۔اور سب کچھ جانتا ہے۔اس لیے اس کی طرف سے کسی پر ظلم نہیں ہوسکتا۔جب یہ بات ہے تو پھر آجکل جو دنیا میں قتل و غارت تباہی و بربادی ہلاکت اور خونریزی ہو رہی ہے۔نئی نئی بیماریاں اور وبائیں پھیل رہی ہیں قحط اور زلزلے آرہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہ تو میں بتا آیا ہوں اور بنانے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہر ایک وہ انسان جسے ذرا بھی عقل سے حصہ ملا ہے جانتا ہے کہ خدا نہیں بدلا اور نہ وہ بدلتا ہے۔وہ جیسے پہلے تھا۔ویسے ہی اب بھی ہے۔اس لیے یہی ماننا پڑ گیا کہ مخلوق کی حالت ہی نہایت خراب ہو گئی ہے۔اسی لیے یہ مذاب آرہے ہیں۔پس یہ و نرالی ہلاکت ہے اور غیر معمولی غذا جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں پائی جاتی۔بلا وجہ نہیں۔اور نہ ہی اچانک بلا اطلاع آگیا ہے خدا تعالیٰ کی قدیم سے سنت ہے کہ مذاب بھیجنے سے پہلے لوگوں کو متنبہ کر دیا کرتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس نے ایک رسول اپنے اس قانون کے ماتحت بھیجا کہ ماحنا معذبين حتى نبعث رسولا یہ ہم کبھی مذاب نہیں دیتے جب تک کہ پہلے رسول نہ بھیج ہیں۔اب وہ لوگ له سورة بنی اسرائیل : 14