خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 115

110 21 خدا کے نبی پر ایمان لاؤ کہ غذا ہے کچھ ا فرموده ۱ از اکتوبر ۱۹ته تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- " بہت سے لوگ دنیا میں اس قسم کے پائے جاتے ہیں کہ ان کی حالت سوئے ہوئے آدمی کی سی ہوتی ہے۔جس طرح سوئے ہوئے انسان کو اس بات کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ میرے سرہانے کوئی دشمن مجھے مارنے کے لیے کھڑا ہے یا میرے پاس کوئی عزیز میری ہمدردی کے لیے بیٹھا ہے۔وہ اگر اتفاقاً اچھا خواب دیکھتا ہے مثلاً میں کہ میں تاجر ہوں بہت سارو پیہ آرہا ہے۔خریداروں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے اور جس قدر میں چاہتا ہوں نفع حاصل کرتا ہوں تو اس خواب کی حالت میں وہ خوشی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اس کے ذرے ذرے میں خوشی رچی ہوئی ہوتی ہے۔گو عین اسی وقت اس کا دشمن تلوار لیے قتل کرنے کے لیے سرہانے کیوں نہ کھڑا ہو۔یا وہ خواب میں کھتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔دنیا کے بادشاہ میرے نام سے تھراتے ہیں میرے پاس بیشمارہ فوجیں ہیں جو اسلحہ سے مسلح ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ مجھے کچھ نقصان پہنچا سکے لیکن ہو سکتا ہے کہ حقیقت میں اس وقت اس کے عزیز رشتہ دار مصیبت میں گرفتار ہوں اس کا گھر کٹ رہا ہو اور اس کے پیارے جان توڑ رہے ہوں۔تو خواب میں ایک رسیاں ایسی خواہیں مراد ہیں جو سچی اور خدا کی طرف سے نہ ہوں۔بلکہ نفسانی خیالات ہوں ، انسان بڑے بڑے خیالی پلاؤ پکا رہا ہوتا ہے۔خوشی اور مسرت سے پھولا نہیں سماتا، بڑے بڑے سبز باغ دیکھ رہا ہوتا ہے۔حالانکہ وہ سخت خطرہ کے منہ میں سخت مشکلات کے بھنور میں اور سخت مصائب کے دائرہ میں گھرا ہوتا ہے۔اس کے بالمقابل دوسری طرف ایک شخص کی خواب میں تو یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مجھتا ہے۔میں ایک بڑے سمندر میں غوطہ کھا رہا ہوں۔جہاز ڈوب رہا ہے کوئی ایسی چیز نزدیک نہیں میں سے سارا پکڑ کر زندہ رہ سکوں۔چاروں طرف مایوسی ہی مایوسی گھیرے ہوتے ہے اور سمندر کی تہ کی طرف جا رہا ہوں اسی حالت میں اس کو خیال پیدا ہوتا ہے کہ مجھکو مچھلی نگل جائیگی اس خیال سے وہ کانپ اٹھتا اور گھبرا کر چیخ مارتا ہے۔ممکن ہے جب وہ ایسی ڈراؤنی خواب دیکھ کر گھبرایا ہوا چیخ مار کر اٹھے۔تو کسی نہایت شفیق اور