خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 99

۹۹ جو نہائی کے قریب باقی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو دین کے لیے باوجود ان دقتوں کے سامنے ہونے کے وقف کرنا چاہا۔ ان کو میں نے چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک تو وہ تھے جن کو ہم نے نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ وہ کسی نہ کسی وجہ سے اس قابل نہیں تھے۔ یا ان کو یہ کام دیا نہیں جاسکتا تھا۔ باقی کتے میں حصوں میں سے ایک کے تو یہ سپر کیا کہ وہ مرکزہ ہی میں رہیں ۔ اور ان کو دینی علوم پڑھانے کی خدمت سپرد کی۔ کہ وہ ان لوگوں کو پڑھائیں۔ جنہوں نے خدمت دین کے لیے وقف ہونے کی درخواست کی ہے اور ایک حصہ جو ابھی اس قابل نہیں تھا کہ باہر بار بھیجا جاسکتا۔ جا سکتا ۔ اس اس کو کو کام پر نہیں لگایا گیا۔ جب موقع ہوگا۔ دیکھا جائیگا۔ اور تیسرا حصہ وہ تھا جس کو آگے کچھ تعلیم دلانی ضروری تھی۔ اور یہ کہ وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھیں اور معلومات کو وسیع کر سکیں۔ ان کو بعد میں ہم کام پر لگا سکیں گے۔ اس حصہ میں چودہ پندرہ شخص تھے ان میں سے بھی آہستہ آہستہ کم ہو گئے ۔ اس وقت قریباً ۱۰ آدمی باقی ہیں جن میں سے پانچ ایسے ہیں جن ۔ کو کالجوں میں تعلیم دلائی جارہی ہے۔ وہ وہاں سے فارغ ہو کر کام پر لگائے جائیں گے۔ چنانچہ جو کالج میں ہیں ان میں سے تین ڈاکٹری میں پڑھ رہے ہیں۔ ایک بنگال میں دو لاہور میں اور تین کو اس جگہ تعلیم دین دلائی جا رہی ہے۔ جو لوگ کا لج میں ہیں ان کے متعلق اس وقت معلوم ہو گا جب وہ فارغ ہونگے کہ وہ اس وقت اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں یا نہیں اور ان کے خیالات میں کس قسم کا تغیر تو نہیں ہوا یہ لوگ جن کو تعلیم لوا رہے ہیں۔ ان میں سے چند ایسے ہیں جن پر ہمیں کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ باقی سب اپنے خرچ سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جو لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں خدا جانے بعد میں وہ ہیں کہدیں کہ ہماری مدت تین سال ختم ہوگئی ہر حال ان کا حال بعد میں معلوم ہوگا کہ وہ کالج کی تعیم کے بعد نوکری کرتے ہیں یا بعض مشکلات کا خیال کرو گے اپنے اس خیال کو چھوڑتے ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس نیک ارادے اور نیک نیتی کے باعث ان کو اس خدمت دین کے ارادے میں کامیاب کریگا میں نے تین سال کے لیے زندگی وقف کرنے کا عہد لیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ممکن ہے ان میں سے بعض زیادہ تکلیف محسوس کر کے اس کو چھوڑنا چاہیں ۔ اور اس طرح وہ خدا کے گنہگار ٹھریں۔ اور منافق نہیں۔ اس لیے میں نے تین سال کے لیے عہد لیا تھا کہ اگر کسی میں کچھ کمزوری بھی ہوگی ۔ اور وہ ان تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتا ہوگا۔ تین سال گذار دے پھر چاہے چھوڑ دے ۔ ورنہ دین کے لیے تین سال کیا ساری عمر کے لیے زندگی وقف کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ