خطبات محمود (جلد 6) — Page 97
१८ مثلاً اگر کوئی شخص کسی مسئلہ کو اس لیے مانتا ہے کہ میں اس کا قائل ہوں۔ تو وہ سخت غلطی کرنا نہیں ہے مثلاً ہے۔ کیونکہ وہ جس پر اپنے عقیدہ کی بنیاد رکھتا ہے ۔ اس کی زندگی کا کیا اعتبار ہے۔ پس عقیدہ کی بنیاد کسی انسان پر نہیں ہونی چاہیتے۔ بلکہ صحیح اور پچھے دلائل پر ہونی چاہیے ۔ بھیڑ چال اچھی چیز نہیں ۔ کہ فلاں چونکہ اس مسئلہ کا قاتل ہے تو ہم بھی اسے مانتے ہیں ۔ بھیڑوں کے متعلق مشہور ہے کہ اگر راستہ میں ایک رسی باندھ کر اس پر سے دو تین بھیڑوں کو گدا دیں اور پھر اسے ہٹالیں توباتی بھیڑیں یونی اس مقام سے کو دگر گذریں گی۔ تو ایسا ایمان کوئی ایمان نہیں ہوتا۔ جو کسی کی وجہ سے ہو، اور جس کے متعلق اپنے پاس دلائل نہ ہوں ایسا شخص ابتلاؤں سے نہیں بیچ سکتا ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہم سب کو توفیق دے اور بصیرت دے تا کہ ہمارے متعلق بھی وہی کہا جاتے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اسلام پر علی وجہ البصیرہ قائم تھے۔ الفضل ۲۴ ستمبر شاالله )