خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 81

۔ بے عیسائی بھی کرتے ہیں، بلکہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ موحد تو ہم ہی ہیں اور مسلمان مشرک ہیں، لیکن کیا در حقیقت وہ خدا کو ایک مانتے ہیں؟ ہرگز نہیں، تو ہمارا مقصد اس قسم کا ماننا نہیں بلکہ حقیقی طور پر خدا کو پالیا ہے۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ان تمام روکوں کو دور کرنے کی کوشش کریں جو اس مقصد کے حصول میں حائل ہوں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ کسی شخص کو کچھ مال مل جاتا ہے۔ تو وہ دین کی طرف سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔ اگر اولاد ہو جاتی ہے تو دین کی طرف سے سستی ہونے لگتی ہے ، بعض لو ستی ہونے لگتی ہے، بعض لوگوں کو رسم و رواج اور اور عادات - عزت و آبرو وغیرہ کا خیال اس مقصد کے حصول میں روک بن جاتا ہے ۔ حالانکہ معمولی مقصد تو معمولی کوشش اور سعی سے حاصل ہو جایا کرتا ہے مگر بڑا مقصد تھوڑی کوشش سے حاصل نہیں ہوتا۔ اگر دس سیڑھیوں کی اونچاتی ہو تو دس قدم میں چڑھ جائیگا، لیکن قطب صاحب کے مینار بار دس قدم میں نہیں چڑھا جائے گا۔ اس کے لیے جتنا وہ بلند ہے اتنی ہی زیادہ کوشش کی ضرورت ہے خدا اور اس کے دین کے لیے ہرقسم کی قربانی نہ کرنا اس کی توحید پر ایمان لانا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ أَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرُ عظيم - خوب اچھی طرح جان لو کہ تمہارے مال و اولاد کھوٹے کھرے کے پرکھنے کا ذریعہ ہیں ۔ بعض لوگوں نے اس کے یعنی کہتے ہیں کہ اولاد اور مال مصیبت ہیں ۔ لیکن یہ غلط ہیں۔ فتنہ کے معنے کھوٹے اور کھرے میں امتیاز کرنے کا ذریعہ کے ہیں۔ اور وہ اس طرح کہ جب کسی کے پاس مال ہوگا بھی معلوم ہو سکے گا کہ یہ خدا کی راہ میں مالی قربانی کرتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح جب کسی کے ہاں اولاد ہو گی جب ہی معلوم ہو گا کہ اولاد کو خدا کی راہ میں قربان کرتا ہے یا نہیں، لیکن جس کے پاس مال ہے نہ اولاد اس کے متعلق کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی راہ میں دے سکتا ہے۔ اور اس کا کھوٹا کھرا کیوں کر پرکھا جا سکتا ہے۔ یہیں جب ایک مالدار خدا کی راہ میں مال قربان کر دیگا تو یہ اس کے لیے ذریعہ تمیز ہو جائیگا اس کے کھرے اور کھوٹے ہونے کا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ مال اور اولاد دینے کا نتیجہ کیا ہوگا ۔ یہ کہ ان اللهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيم - مال و اولاد خدا کے امتحانا تمہیں بطور نمونہ کے دیتے ہیں۔ اس سے قیاس کر لو کہ جب تم خدا کی راہ میں قربانیاں کرو گے تو وہ خدا جونمونہ میں ایسی ایسی نعمتیں دے سکتا ہے اور دیتا ہے۔ وہ اجر میں کیا کچھ نہیں دیگا تو فرمایا۔ اللہ کے پاس اجر عظیم ہے اب غور کرو کہ وہ خدا جو بغیر کسی عمل کے محض اپنے فضل سے اسقدر مال و دولت دیتا ہے جب کوئی اس کے احکام مانے گا۔ کتنا بڑا اجر دیگا ۔ تو مال و اولاد خدا نے نمونہ کے طور پر دیتے ہیں۔ اور اس لیے دیتے ہیں کہ ہم نیکی میں قدم بڑھائیں۔ اور یہ ہمارے لیے نیکی میں بڑھنے کے لیے ترغیب و تحریص