خطبات محمود (جلد 6) — Page 76
64 15 امرار توجہ کریں فرموده ۲۳ را گست اوله حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیت پڑھ کر فرمایا :- وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ اجْرٌ عَظِيمٌ - (انفال ركوع (٣) (۳) ہر ایک کام کیلئے نہایت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اس کے متعلق جسقدر امور ہیں ان سبکو مد نظر رکھے مثلا کسی کام کے کرنے سے پہلے ضرورت ہے کہ سوچا جائے کہ اس کی غرض کیا ہے ؟ اور اس کے کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ کیا ضرورت ہے اور کون سے ذرائع ہیں جن سے وہ کام کامیابی کے ساتھ ہو سکتا ہے اور کیا روکیں ہیں جو اس کے رستہ میں حائل ہیں ۔ اگر ان باتوں پر غور نہ کیا جائے تو پھر کامیابی نہیں ہوسکتی مثلاً کوئی شخص کسی کام کو شروع کرتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس میں فوائد کیا ہیں۔ وہ ہرگز باوجود اس کام وہ نہ کے کرنے کے اس میں اسقدر محنت نہیں کریگا جسقدر محنت کرنے کی ضرورت ہوگی اور نہ وہ اسقدر محنت کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے اس کی کوشش اُدھوری رہے گی۔ اس کا جوش سرد ہوگا، لیکن اگر اس نے غور کیا ہوگا اور اسے معلوم ہو گا کہ یہ کام کتنا مفید ہے اور اس پر یہ ثابت ہو گیا ہو گا کہ اس کے کرنے سے مجھے کتنے فوائد حاصل ہونگے تو پھر اس کی توجہ ہمہ تن اس کی طرف لگ جائیگی ۔ کیا ہیں۔ مثلاً جنگ ہے۔ یہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی قوموں نے بھی کی اور آپ کے وقت بھی ہوئی کتی فاتح اُٹھے ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو قریبا ساری دنیا پر پہنچ گئے۔ ان میں سے ایک تو تیمور ہے اور ایک حد تک نپولین جس کی فتوحات یورپ اور افریقہ میں تھیں۔ ان سے پہلے سکندر اور سکندر سے پہلے ایرانیوں نے بھی کئی فتوحات حاصل کیں۔ مگر آج جو حالت ہے وہ پہلے نہیں تھی۔ جیسی کوشش سے آج جنگ ہو رہی ہے۔ ولی کبھی پہلے نہیں ہوتی ۔ پہلی جنگیں بادشاہوں کی جنگیں تھیں۔ اور تھوڑی ایسی جنگیں تھیں۔ جنکو رعایا نے اپنی جنگ خیال کیا۔ سواتے ان جنگوں ۔ جنگوں کے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم