خطبات محمود (جلد 6) — Page 73
جماعت میں بھی اس آیت کا استعمال ہوتا ہے، لیکن لگوں نے توجہ نہیں کی۔ایک فریق دوسرے پر حملہ کرتا ہے مگر مضمون سے ناواقف ہے۔ایک مفہوم ایک غیر معین خیال ایک غیر تمتاز اثر ان کے دلوں پر ہوتا ہے مگر وہ اس کی تعیین تبیین نہیں کر سکتے۔اس کا ایک مفہوم دلوں میں پیدا ہوتا ہے جگر حد بندی کے بغیر استعمال شروع کر دیتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض کو خیال ہو گیا ہے کہ اس آیت کے مفہوم کے موافق اکثر حصہ گمراہ ہوتا ہے۔لیکن یہ خیال بالکل باطل ہے۔اگر یہی مفہوم ہو تو پھر اكثر من فی الارض کے یعنی ہوں گے کہ دنیا میں جس مذہب کے زیادہ پابند ہیں۔وہ جھوٹا ہے۔پھر حدیوں پر پیکس طرح عائد ہوگی۔کیونکہ یہاں یہ نہیں فرمایا - اكثر من يتبعون الاسلام یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانوں احمدیوں بیسیوں یا شیعوں میں سے جن کی تعداد زیادہ ہو وہ گمراہ ہے۔یا دو فریق باہم جھگڑیں۔اور ان میں سے جن کی تعداد زیادہ ہو وہ گراہ ہو۔پس یہ معصوم پیدا کرنا کسی صورت میں درست نہیں ہوسکتا۔اکثر من في الارض کے معنوں کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ جو دنیا میں سب سے زیادہ ہوں وہ گمراہ ہیں۔اور وہ عیسائی یا بدھ ہیں۔مگر سیاق و سباق میں نہ عیسائیوں کا ذکر ہے نہ بڑھوں کا ریپس اگر فی الحقیقت اس آیت کا یہ مفہوم ہوتا تو الفاظ زیادہ سے زیادہ اس بات کے متحمل ہو سکتے تھے کہ زمین میں جو سب سے زیادہ آباد ہیں وہ گراہ ہیں کیونکہ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اگر تو اطاعت کرے گا زمین پر بسنے والوں میں سے اسکی جو اکثر ہیں۔وہ اللہ کی راہ سے گمراہ کر دیں گے۔تو ان الفاظ کے یہ معنے ہوئے کہ سب سے زیادہ جو مذہب ہے وہ گمراہ ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔کیونکہ اگر یہی مطلب ہوتا تو پھر اسلام کے متعلق یہ پیشگوئیاں ہیں کہ وہ سب پر غالب اور سب سے زیادہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کوبھی یہی بتایا گیا کہ باقی مذاہب اس قدر کم ہو جائیں گے کہ گویاوہ رہے ہی نہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو بعثت ہی اس غرض کے لیے ہوتی ہے۔تو اس کہ حالت میں نعوذ باللہ اس کے پڑھنی ہونگے کہ اسلام ہی جھوٹا ہے (نعوذ باللہ من ذالک) یہاں کسی مذہب کی تعداد کا ذکر نہیں۔اور نہ کثرت وقلت کی بحث ہے۔بلکہ قرآن مجید کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ اطاعت کے قابل اکثر نہیں ہوتے ، بلکہ کم ہوتے ہیں۔مسلمانوں کی ایک تعداد قرار دینی پڑے گی۔خواہ احمدی ہوں۔خواہ ان سے پہلے کے مگر ہرمسلمان اس قابل نہیں کہ وہ مطاع ہو۔اور اس کی اطاعت کی جاوے۔کروڑوں مسلمان ایسے نہیں گئے جو اس لیے