خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 72

اسی طرح قرآن کریم کی ایک دنیا ہے اور وہ اس مری دنیاسے کہیں بڑھ کر کیونکہ مادیات بالآخر حمد ہوتی ہیں بمقابلہ عرفانی اور علمی دنیا کے لیکن جب مادر دنیا با وجود اپنی حدود و قیود کے ہمارے علم میں حدود و قیود نہیں رکھتی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لاکھوں سال سے انسان دھاتوں کا استعمال کرتا چلا آتا ہے اور وہ ختم ہونے میں نہیں آتی ہیں تو پھر قرآن مجید کے عجائبات اور معارف کے متعلق ہم بھی نہیں کہ سکتے ہیں کہ فلاں جگہ پر ختم ہو گئے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ قرآن مجید کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔شخص جو مطهر قلب نے کر اخلاص کے ساتھ خداتعالی میں جوہو کر مجاہدہ کرتا ہے۔وہ قرآن مجید کے حقائق و معارف سے اپنی استعداد کے مطابق حصہ پالیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنیوالے لوگ ہوتے ہیں جو ہر صدی کے سر پر آتے ہیں۔وہ وقتی ضرورتوں کے لحاظ سے قرآن مجید کے خزانوں سے حصہ لیتے ہیں اور جس جس قدر ضرورتیں وسیع ہوں اور آنے والے کی استعداد قوی ہو۔اسی قدر وہ ان خزانوں سے زیاد حصہ لیتا ہے۔مگر لوگوں کی عجیب حالت ہے کہ وہ ہر مواقع پر سمجھ لیتے ہیں کہ قرآن مجید کے عجائبات اور معارف کا خزانہ ختم ہوگیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہوتے۔ایک اور آتا ہے جو ان علوم کا وارث ہوتا ہے اور وہ جدید معارف و حقائق کا خزانہ پیش کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے جو شخص یہی جھتا ہے کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف ختم ہو گئے۔اس نے نہ قرآن مجید کی حقیقت کو سمجھا اور نہ اس نے اس دنیا کا کچھ مزہ چکھا۔وہ بالکل نا آشنا اور بیگانہ ہے۔غرض قرآنی دنیا کے اندر جو کائیں اور ذخائر ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔مگر بڑے افسوس اور تعجب کی بات ہے کہ بہت لوگ ہیں جو تدبر سے قاصر ہیں اور باوجود ایسے خزانوں اور دفاتر کی موجودگی کے وہ تدبیر نہیں کرتے۔بلکہ دیکھا ہے کہ بعض آیات سینکڑوں زبانوں پر ہیں جو اپنے کثیر الاستعمال کی وجہ سے مثال یا ضرب المثل کا رنگ رکھتی ہیں۔جیسے بعض شعر ہوتے ہیں کہ عام طور پر زبان زرد ہو جاتے ہیں۔اسی طرح بعض آیات ہیں جو مثال کے طور پر زبان زدہ ہیں یہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی اور دوسرے لوگ بھی مضمون کو وسعت دیگر استعمال کرلیتے ہیں۔ایسی بہت سی آیات ہیں جو مثال کے طور پر رائج ہیں اور با وجود اس کے کہ وہ عام طور پر پڑھی جاتی ہیں۔مگر پھر بھی تھوڑے ہیں جو حقیقت کے ماہر ہوں۔بلکہ ایک لاکھ میں سے شاید ایک بھی ہو تو بہت ہے۔اس قسم کی آیات میں سے ایک یہ آیت بھی ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔اس زمانہ میں اس کا استعمال عام طور پرمسلمانوں میں کم ہے، مگر اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں اس کا استعمال ہوتا آیا ہے۔دشمنوں کے مقابلہ میں بہبود اور عیسائیوں میں بھی یہ خیال پھیلا ہے۔اب ہماری