خطبات محمود (جلد 6) — Page 71
14 ایک آیت قرآنی کی لطیف تفسیر اطماع کے قابل اکثر نہیں ہوتے بلکہ کم ہوتے ہیں د فرموده در جولاتی شاالله بمقام ڈلہوزی ) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی :- وان تطع اكثر من فى الارض يضلوك عن سبيل الله ان يتبعون الا (الانعام : 116) الفن وان هم الا يخرصونه قرآن شریف ایک دنیا ہے جس طرح ہماری زمینی دنیا ہے ۔ مادی دنیا ہے اور جس طرح اس زمین کے علاوہ اور عالم ہیں جن کو سیارے کہتے ہیں۔ یا یہ زمین اور اس کے متعلقات چاند سورج ۔ ج ستار ہے۔ ستیارے۔ ہر ایک بجائے خود ایک دنیا ہے ۔ اسی طرح ایک روحانی دنیا ہے اور پھر اس میں قرآن مجید بھی ایک دنیا ہے ۔ ہے قرآن مجیر علمی یا عرفانی دنیا ہے جس طرح اس زمین کے اندر بڑی بڑی کانہیں ہیں اور انسان جس جس قدر اپنے مادی علوم میں ترقی کرتا جاتا ہے اور جوف الارض کے عجائبات سے واقف ہوتا جاتا ہے اسی قدر مخفی خزانے کھلتے جاتے ہیں۔ ان کانوں میں سے کسی کو بھی انسان کبھی ختم نہیں کر سکا ۔ سینکڑوں سال ہوتے جب سے علم الاقتصاد کے ماہر کو نکلے کے متعلق آواز بلند کر رہے ہیں کہ وہ ختم ہونے والا ہے۔ مگر وہ نکلتا ہی چلا آتا ہے جب سے تاریخ کا پتہ لگتا ہے ۔ سونا چلا آتا ہے۔ مگر ختم ہونے میں نہیں آتا۔ یہی حال اور دھاتوں کا ہے۔ اس قدر انسان ان کو استعمال کرتا ہے کہ معمولی عقل کا آدمی اس خرچ کو دیکھ کر شاید بول اُٹھے کہ بہت جلد یہ چیز ختم ہو جاتے گی۔ مگر وہ ختم نہیں ہوتی۔ کروڑوں اربوں بلکہ لا انتها شن ایک ایک دھات خرچ ہوتی ہے اور ختم نہیں ہوتی ۔