خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 579

۵۷۹ (106) A اے مرے اہل وفائت کبھی کام نہ ہو فرموده ۳۱ دسمبر وامه ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا کہ :- میں اس نیت کے ساتھ خطبہ پڑھانے کے لیے کھڑا ہوا ہوں کہ جو دوست نماز جمعہ یہاں پڑھنے کے لیے ٹھہر گئے ہیں وہ کچھ سن لیں ورنہ صبح میری طبعیت خراب ہوگئی اور پسلیوںمیں درد ہوگیا تھا میں نماز کے بعد میں مبرہ پربیٹھ جاؤنگا، احباب نہیں مصافحہ کرلیں مگر ہجوم نرکریں۔ اس کے بعد میں تمام دوستوں کو خواہ وہ باہر سے یہاں آتے ہوں یا نہیں کے ہوں ۔ ایک بار پھر سورہ فاکہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اس میں اللہ تعالی مومنین کونصیحت کرتا ہے کہ مومن جہاں تمام دنیاوی معاملات میں صابر و شاکر ہوتا ہے۔ وہاں ایک معاملہ میں قطعاً صبر نہیں کرتا یا یوں کہو کہ صر کے کئی معنے ہیں۔ اول کی مصیبت میں نہ گھبرانا (ہ) جس جگہ پر ہو اس پر قائم رہنا (۳) جس چیز کو اختیار کرے اس کو نہ چھوڑنا ۔ گھر اس جگہ صبر کے معنی یہ ہوتے کہ وہ ٹھرتا نہیں آگے بڑھتا ہے۔ فرمایا تم یہ کھو کہ اهدنا الصراط المستقيم ، خدایا میرے قدم کو آگے ہی آگے بڑھا - اهدنا کے معنے ہیں ۔ (1) مجھے رستہ بارہ) رستہ دکھا (۳) سیدھے رستہ پر چلاتے چل۔ یہاں تینوں معنے درست ہیں، جو گمراہ ہیں۔ اُن کی دُعا ہے کہ ہمیں سیدھا رستہ بار بعض ہوتے ہیں کہ گمراہ تو نہیں ہوتے ۔ مگر ڈرتے ہیں ۔ ان کے لیے کہا کہ رستہ دکھا دے۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جو اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ ان کی یہ دعا ہوتی ہے کہ ہمیں اس رستہ پر جس پر ہم ہیں چلاتے چل۔ ہم کہیں ٹھر نے نہ پائیں ۔ غرض یہ دُعا سب اعلیٰ و ادنی کے لیے ہے اور مومن دعا کرتا ہے کہ میں کسی ایک جگہ نہ ٹھہروں ، بلکہ آگے ہی آگے بڑھوں ۔ یہاں کامیابی سانس لینے میں نہیں اور خوب یاد رکھو کہ اس جہاں میں سانس لینا نہیں بلکہ مومن کے لیے سانس لینے کا وقت اگلا جہان ہے۔ مومن کے سفر کی یہاں منزل نہیں ۔ یہاں اس کے لیے قیام کی جگہ نہیں وہ بڑھتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے حتی کہ وہ یہاں سے چلا جاتا ہے۔