خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 578

پس اپنے مانوں کو آرام پہنچاؤ جہاں تک پہنچا سکور اور اس لیے خدمت مہمان کرو کہ خدا کا حکم ہے ہے اس سے ثواب ہوگا۔ نیز اس لیے بھی کہ اس سے اپنے نفس کی تربیت ہوتی ہے۔ یاد رکھو ہر ایک میزبان اپنے مہمان کے لیے نمونہ نہیں ہوتا۔ مگر تم ان کے لیے نمونہ ہو کیونکہ تم اس بستی میں رہتے ہو۔ جو ام القریٰ ہے ۔ اگر اس میں رہنے والے تم لوگ دوسروں سے ماں باپ جیسی شفقت ن کر سکوں تو کم از کم بڑے بھائی جتنی تو شفقت ضرور کرنی چاہیئے ۔ جولوگ یہاں آتے ہیں۔ وہ نہیں دیکھتے ہیں ۔ اور تمارا نمونہ پڑتے ہیں ہیں تم اخلاق دکھاؤ ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ کہیں کہ اسلام کا اخلاق سے تعلق ہی نہیں ۔ یاد رکھو کبھی کوئی مصلح درندہ اور وحشی نہیں ہوتا۔ اگر تم نمونہ عمدہ نہ دکھاؤ گے تو لوگوں پر برا اثر پڑ گیا۔ تمہارا ایسا نمونہ ہونا چاہتے کہ وہ آئیں اور تمہاری حالت سے سبق سیکھیں۔ ایک و -- ایک دوست نے قادیان کو شفا خان کہا ہے لیکن اگر یہاں مریض آئیں۔ اور مریض ہی رہیں حتی کہ مر جائیں۔ تو یہ شفا خانہ نہیں موت خانہ ہو گا ۔ شفا خانہ وہ ہوتا ہے جس میں نئے مریض آئیں اور پہلے شفا پا کر نکل جائیں تم یہاں چند دن کے لیے نہیں آتے ۔ اس لیے تم اپنے کو تندرست ثابت کرو، نہیں قادیان کی مثال شفا خانہ کی نہیں۔ بلکہ مدرسہ کی ہے۔ یہاں لوگ علوم و معارف اور اخلاق سیکھتے ہیں۔ اگر باہر والے تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو تم نے را کچھ نہ سیکھا ہیں اپنے کو زیادہ قابل زیادہ مہذب با اخلاق مدار و ثابت کرو کیونکہ اگر یہ ہیں تو خدا پرستی وہ تو الگ رہی۔ ابھی تم نے انسانیت کو بھی حاصل نہیں کیا تم وہ چیزیں حاصل کرو اور ثبوت دو کہ تم نے دو چیزیں حاصل کی ہوتی ہیں۔ تاکہ لوگ دیکھیں کہ تم نے بے فائدہ اپنے گھروں کو نہیں چھوڑا ۔ اور تمہاری تبدیلی دوسروں پر اثر ڈالے۔ یہ میری مختصر نصیحت ہے۔ اس کو قبول کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔" ( الفضل ۲۳ دسمبر له ) ٧٦٥