خطبات محمود (جلد 6) — Page 577
۵۷۷ یہ سوال ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ایسے علاقوں کے لوگ یا بچے جن کو اسلام کا پتہ نہیں قیامت کے دن ان سے کیا سلوک ہوگا مسلمان محققین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ دیکھا جائیگا کہ جن باتوں پر وہ ایمان لاسکتے تھے ۔ ان پر لاتے ہیں کہ نہیں ۔ اوران پر عمل کیا کہ ہیں مثلاً کسی کے پاس حضرت مسیح کی خبر نہیں پہنچی، رسول ریم کی پنچی اور اس نے آپ کو مان لیا۔ تو سمجھ جائیگا کہ اگر مسیح کے وقت کی خبر پہنتی تو نہیں تبھی مان لیتا۔ یا خدا تعالیٰ کے ایک ہونے پر اس کو ایمان تھا کہ نہیں بعض احادیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو موقع دیا جائیگا کہ وہ صداقتوں کو قبول یا رد کریں۔ ہیں اس موقع پر خوش خلقی اور ہمدردی ظاہر کرو ۔ اور اس طرح ان امور کے متعلق بھی ثواب حاصل کرد جو اس وقت تمہارے مقدور میں نہیں پیس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے نفس کو ماریں ۔ اور عادت ڈالیں کہ وہ مشقت برداشت کر سکے۔ تھوڑے تھوڑے کاموں سے ہی بڑے کام ہوا کرتے ہیں۔ پہلے دن جب مدرسہ میں لڑکا جاتا ہے۔ تو قاعدہ پڑھتا ہے۔ اور وہ بھی دو تین حرف اور اس کے بعد اس کو چھٹی دی جاتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ وہ خوب عادی ہو جاتا ہے اور آخر پڑھنے والے انسان کی ایسی حالت ہوتی ہے اور بہت سے لوگوں کو اور میری بھی ہے کہ اگر مطالعہ نہ کیا جائے ۔ تو بیمار ہو جائیں۔ ان کے لیے صحت اور راحت ہی ہوتی ہے کہ وہ پڑھیں اور اپنا ظلم بڑھائیں ۔ ایک دوست تھے بہت مخلص اور بڑے عالم جو اب بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں ۔ ان کی حالت غریبا نہ تھی ۔ جو علم کے ساتھ کسی قدر خصوصیت رکھتی ہے۔ بڑے متوکل علی اللہ تھے ۔ بعض دفعہ ہفتہ ہفتہ فاقہ پر گزرتا تھا۔ لوگ انکے چہرے سے دیکھتے تھے مگر وہ اس حال میں بلند آواز سے بولتے تھے کہ لوگ ان کو بھوکا نہ خیال کریں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے ان سے دریافت کیا۔ کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے آپ کا خیال تھا کہ روپیہ وغیرہ کے متعلق ہو۔ تو آپ مدد کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ایک مکان ہو جس میں نادر کتابیں بھری ہوں اور مجھ کو اس میں بند کر دیا جائے اور لوگ مجھے بھول جائیں ہیں اس میں سے تب نکلوں جب سب کتابیں پڑھ لوں تو انسان کی پھر یہ حالت ہوتی ہے مگر یہ پہلے دن نہیں ہوتی ہاں آہستہ آہستہ ہوتی ہے نفس کی اصلاح کا بھی یہی طریق ہے کہ آہستہ آہستہ اس کو عادی بنایا جائے ۔ ایک ہی دفعہ نفس نہیں مرتا بلکہ آہستہ آہستہ مرتا ہے۔ پہلے کسی خاص بات کے لیے پھر زیادہ کے لیے۔ پھر کسی قدر وقت کے لیے۔ پھر زیادہ کے لیے مطیع کر وحتی کہ وہ وقت آئے کہ ہمیشہ کے لیے مطلع ہو جائے ۔ جس طرح طالب علم کے لیے پہلے حروف ہوتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ علوم اسی طرح اصلاح نفس کے لیے بھی سبق ہیں ۔ جو بتدریج وہ پڑھتا ہے ۔